عقل اور دین
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۵
عقل اور دین
قرآن کی سورہ نمبر 38 میں قرآن کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: كتاب أنزلناه إليك مبارك ليدبّروا آياته وليتذكّر أولو الألباب (ص: 29) یعنی یہ ایک مبارک کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن لفظی تلاوت (recitation) کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ اس لیے ہے کہ پڑھنے والا اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے اس کی آیتوں پر غور کرے اور اُس سے وہ نصیحت حاصل کرے جو آیتوں کے اندر چھپی ہوئی ہے۔
عقل کی اہمیت کے بارے میں پیغمبر اسلام ﷺ کی بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: لكلّ شيئ دعامة، ودعامة المؤمن عقله (مسند الحارث للهيثمی، رقم الحديث: 840) یعنی ہر چیز کا ایک ستون ہوتا ہے، اور مومن کا ستون اس کی عقل ہے۔ اس معاملے کی وضاحت ایک اور حدیث سے ہوتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے بارے میں فرمایا کہ قرآن کی ہر آیت کا ایک ظاہر ہے اور ایک اس کا باطن ہے (لكل آية منها ظهر وبطن)۔
قرآن کی آیتوں کا ظاہری مفہوم تو اس کی آیتوں کے ترجمے سے معلوم ہو جاتا ہے، لیکن آیتوں کا جو باطن، یعنی اس کا جو گہرا مفہوم ہے، وہ صرف عقل کے استعمال کے ذریعے ہی معلوم ہوتا ہے۔ عقل کے ذریعے آدمی الفاظ پر مزید غور و فکر کرتا ہے۔ اس غور و فکر کے ذریعے وہ آیتوں کے اندر چھپے ہوئے گہرے معانی تک پہنچتا ہے۔ قرآن کی یہ گہری معرفت ہی آدمی کے اندر اعلیٰ ایمانی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ عقل کے استعمال کے بغیر کسی آدمی کو جو دین حاصل ہوتا ہے، وہ دین کا چھلکا ہے اور عقل کے استعمال کے بعد کسی آدمی کو جو دین حاصل ہوتا ہے، وہ دین کا مغز ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues