Al-Risala · November 2009 · page 8

معرفت کا سفر

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۸

خدا کا وجود

پچھلے تقریباً پانچ سو سال سے کائنات کا سائنسی مطالعہ جاری ہے۔ اس مطالعے میں بڑے بڑے دماغ شامل رہے ہیں۔ آخری بات جہاں یہ سائنسی مطالعہ پہنچا ہے، وہ یہ ہے کہ کائنات اتنی زیادہ وسیع ہے کہ انسان کے لیے اُس کو اپنے احاطے میں لانا بظاہر ناممکن ہے۔ تازہ ترین سائنسی تحقیق کے مطابق، انسان کا علم بہ مشکل کائنات کے صرف پانچ فی صد حصے تک پہنچا ہے۔ اس پانچ فی صد حصے کے معاملے میں بھی انسانی علم کی محدودیت کا یہ عالم ہے کہ ایک سائنس داں نے کہا کہ ہم جتنا دریافت کر پاتے ہیں، اُس سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ دریافت شدہ چیزیں بھی ابھی تک غیر دریافت شدہ چیزوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم کم سے کم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان رہے ہیں:

We are knowing more and more about less and less. خدا کے بارے میں جاننا خالق (Creator) کے بارے میں جاننا ہے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ ابھی تک انسان خالق کی تخلیق (creation) کے بارے میں بھی صرف چند ہی صد جان سکا ہے۔ ایسی حالت میں کسی انسان کا یہ مطالبہ کرنا کہ خالق کے بارے میں ہم کو قطعی معلومات دو، سرتا سرایک غیر علمی مطالبے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب انسان کا حال یہ ہے کہ وہ ابھی تک تخلیق کے بارے میں پورا علم حاصل نہ کر سکا تو وہ خالق کے بارے میں پورا علم کیسے حاصل کر سکتا ہے۔

تخلیق کا وجود زمان و مکان (space and time) کے اندر ہے، اور خالق کا وجود ماوراے زمان و مکان (beyond space and time) سے تعلق رکھتا ہے، پھر جو انسان اتنا محدود ہو کہ وہ زمان و مکان کے اندر کی چیزوں کا بھی احاطہ نہ کر سکے، وہ زمان و مکان کے باہر کی حقیقت کو اپنے احاطے میں کس طرح لا سکتا ہے— حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان خدا کو صرف عجز کی سطح پر دریافت کر سکتا ہے، نہ کہ علم کی سطح پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues

Printed page