موت سے پہلے، موت کے بعد
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۹
موت سے پہلے، موت کے بعد
پوری انسانی تاریخ میں انسان جس سب سے بڑی فراموشی میں مبتلا رہا ہے، وہ صرف ایک ہے، اور وہ موت کا معاملہ ہے۔ اس معاملے میں انسان کی غفلت کا یہ عالم ہے کہ مشکل سے چند ایسے افراد دریافت کیے جاسکتے ہیں جو اس معاملے میں فراموشی کا شکار نہ ہوں۔ موجودہ دنیا دار الامتحان (testing ground) ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو جو کچھ ملا ہوا ہے، وہ سب کا سب سامان امتحان کے طور پر ملا ہوا ہے۔ موت اس مدت امتحان کو ختم کرتی ہے۔ اس لیے موت کے آتے ہی ہر انسان سے وہ تمام چیزیں اچانک چھین جائیں گی جو اس کو یہاں امتحان کے طور پر ملی ہوئی تھی۔
موت کے بعد آدمی اچانک ایک نئی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ دنیا اپنے عمل کے نتائج پانے کی دنیا ہے۔ موت سے پہلے آدمی اگر سامان امتحان میں جی رہا تھا تو موت کے بعد اُس کو اپنے عمل کے نتائج کے درمیان جینا پڑے گا۔ موت سے پہلے کی زندگی عارضی زندگی ہے، یعنی یہ مشکل سوسال، لیکن موت کے بعد کی زندگی ابدی زندگی ہے، اُس کا کبھی خاتمہ ہونے والا نہیں۔ موت سے پہلے کی زندگی میں انسان کو بے شمار چیزیں ملی ہوئی ہیں۔ یہ تمام چیزیں پیدا ہوتے ہی اُس کو اپنے آپ حاصل ہو جاتی ہیں۔ اس لیے آدمی ان چیزوں کو فار گرائنڈڈ (for granted) طور پر لیتا رہتا ہے۔ وہ سوچ نہیں پاتا کہ یہ تمام عطیات اچانک اس سے منقطع ہو جائیں گے۔ موت کے بعد آدمی اچانک اپنے آپ کو اس حال میں پائے گا کہ وہ بالکل تنہا اور بے سہارا ہو گیا۔ اس سنگین حقیقت کے بارے میں سوچنا انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ لیکن آدمی بے فکری کی حالت میں پڑا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اچانک مر کر اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ وہ اس حدیث رسول کا مصداق بن جاتا ہے: ما رأیتُ مثلَ النار نام هارَبُها، وما رأیتُ مثلَ الجنة نام طالبها (الترمذی، کتاب صفة جهنم)۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues