شکایت کا مزاج
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۱
سائنسی فلسفہ دراصل مبنی بر سائنس الحاد (science-based atheism) کا دوسرا نام ہے۔ اِس طرح بیسویں صدی عیسوی میں بہت سے فلسفی اُٹھے جنہوں نے سائنسی تحقیقات کو ملحدانہ فلسفے کے حق میں استعمال کیا۔ اِس طرح وہ جدید الحاد وجود میں آیا جس کو سائنسی الحاد کہا جاسکتا ہے۔ اِس موضوع پر کثیر تعداد میں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ بطور مثال یہاں صرف ایک کتاب کا نام درج کیا جاتا ہے: Julian Huxley, Religion Without Revelation (1967)
سائنسی الحاد، خالص منطقی اعتبار سے، ایک غیر علمی الحاد ہے۔ سائنسی الحاد کے داعیوں نے غیر علمی طور پر سائنسی حقیقتوں کو اپنے حق میں پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔ چناں چہ اِسی زمانے میں ایک اور طبقہ پیدا ہوا جو نسبتاً زیادہ سنجیدہ تھا۔ وہ سائنسی حقائق کے غیر علمی استعمال کے خلاف تھا۔ اِس دوسرے طبقے نے کوشش کی کہ سائنسی حقائق کو اس کے صحیح تناظر (perspective) میں پیش کیا جائے ۔ یہ دوسرا طبقہ اپنے اعلان کی حد تک مذہبی نہیں تھا، وہ بظاہر سیکولر تھا۔ لیکن اُس نے یہ اہم کام انجام دیا کہ اس نے جدید ملحدین کو خالص علمی اعتبار سے مکمل طور پر رد کر دیا۔ اِس معاملے کے چند خاص پہلو ہیں۔ 1۔ اُس کا ایک پہلو یہ ہے کہ جدید سائنس (physical science) نے اپنا میدان تمام تر مادی اشیاء کی تحقیق کو بنایا۔ اِس کے نتیجے میں بڑی بڑی مادی حقیقتیں دریافت ہوئیں اور مادی نظریات قائم ہوئے۔ اِس صورتِ حال کو استعمال کرتے ہوئے جدید ملحدین نے یہ کیا کہ انھوں نے سچائی کی مادی تعبیر (material interpretation of truth) کا نظریہ وضع کیا۔ انہوں نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ حقیقت وہی ہے جو مادی اصطلاحوں میں بیان کی جاسکے، جو چیز مادی اصطلاحوں میں بیان نہ کی جاسکے، وہ حقیقت بھی نہیں۔ اِس نظریے کے رد میں کئی مفکرین نے قیمتی کتابیں لکھیں۔ بطور مثال ایک کتاب کا نام یہ ہے:
Bertrand Russell, Human Knowledge (1948)
2۔ اِس معاملے کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ فزیکل سائنس کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ دنیا میں جو واقعات ہوتے ہیں، اُن کے پیچھے کوئی سبب (cause) کارفرما ہوتا ہے۔ مثلاً پانی کو گرم کرنے سے
‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues