Al-Risala · November 2009 · page 20

شکایت کا مزاج

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۰

ہمیشہ سے دنیا میں پایا جاتا رہا ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں ملحد مفکرین کو یہ موقع ملا کہ وہ بظاہر سائنسی دلائل کے ذریعے الحاد کو نئی طاقت کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کر سکیں۔ مثال کے طور پر ڈارون ازم (Darwinism) کو الحاد کی حمایت میں سائنسی دلیل کے طور پر پیش کرنا۔

موجودہ زمانے کا سائنسی الحاد اصلاََ سائنسی الحاد نہیں ہے، بلکہ وہ مغالطہ آمیز قسم کے بظاہر سائنسی دلائل کی بنیاد پر الحادی فکر کی عمارت کھڑی کرنا ہے۔ اب اُن لوگوں کو اخوانِ رسول کا درجہ ملے گا جو اس فریب کا پردہ چاک کریں اور الحاد کا رشتہ مفروضہ دلائل سے منقطع کر دیں، اور اس طرح الحاد کو بے دلیل اور علمی اعتبار سے بے وزن بنا دیں۔

پچھلے دور میں اصحابِ رسول نے جو کارنامہ انجام دیا، اُس کے لیے اللہ تعالیٰ نے سینکڑوں سال کے عمل کے دوران مخصوص تاریخی حالات پیدا کیے تھے۔ یہ تاریخی حالات وہ مواقع تھے جن کو اصحابِ رسول نے سمجھا اور اُن کو دانش مندانہ طور پر استعمال کر کے مطلوب انقلاب برپا کیا۔ اِسی طرح بعد کے زمانے میں اخوانِ رسول کے ذریعے جو فکری انقلاب واقع ہوگا، اس کے لیے ضروری مواقع بھی خدا کی طرف سے پیدا کیے جانے والے ہیں۔ اخوانِ رسول کا کام بھی یہی ہے کہ وہ اپنے دور میں پیدا ہونے والے مواقع کو سمجھیں اور اُن کو دانش مندانہ طور پر استعمال کر کے اُس تاریخی عمل کو انجام دیں جس کو ظہور میں لانا اُن کے لیے مقدر کیا گیا ہے۔ ذیل میں دوسرے دور کے حالات کا مختصر طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔ جدید الحاد الحاد (atheism) کوئی نیا ظاہر نہیں ۔ قدیم زمانے میں بھی کسی نہ کسی صورت میں الحادی فکر پایا جاتا رہا ہے۔ لیکن قدیم زمانے میں الحاد کے لیے کوئی فکری بنیاد (rational base) موجود نہ تھی ۔ اس لیے قدیم زمانے میں الحاد کو زیادہ فروغ حاصل نہ ہوسکا۔

موجودہ زمانے میں جب سائنسی تحقیقات سامنے آئیں تو دورِ جدید کے ملحدین نے محسوس کیا کہ وہ سائنسی تحقیقات کو اپنے حق میں ایک علمی ثبوت کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ اِس طرح وہ فلسفہ وجود میں آیا جس کو سائنسی فلسفہ (scientific philosophy) کہا جاتا ہے۔ سائنسی فلسفہ کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues

Printed page