Al-Risala · November 2009 · page 26

تباہ کن غلط فہمی

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۶

تباہ کن غلط فہمی

عباسی دور میں مسلمانوں کے اندرونی زوال آیا۔ اس زمانہ میں مسلمانوں کا یہ حال ہوا کہ کچھ رسمی اعمال اور مخصوص وضع قطع دینداری کی علامت بن گئے۔

اسی زمانہ میں قصاص (story tellers) پیدا ہوئے۔ وہ ان رسمی اعمال کے پراسرار فضائل پر خود ساختہ کہانیاں لوگوں کو سنانے لگے۔ اس طرح لوگ اس رسمی دین داری پر مزید پختہ ہو گئے ۔ اپنا محاسبہ (introspection) کرنے کا جذبہ ختم ہو گیا۔

موجودہ زمانہ میں یہی خرابی مزید اضافہ کے ساتھ ظہور میں آئی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے ان رسمی اعمال کو دین داری سمجھ لیا۔ دوبارہ ان کے درمیان ایسی شخصیتیں اور ایسی جماعتیں پیدا ہوئی ہیں جو ان رسمی اعمال کے فضائل کے بارے میں لوگوں کو پراسرار قسم کے قصے سنا رہی ہیں۔ اس طرح وہ مسلمانوں کے اندر محاسبہ کا مزاج تو پیدا نہیں کرتے، البتہ فضیلت کی کہانیوں کے ذریعہ وہ ان کے اندر یہ فرضی یقین پیدا کر رہے ہیں کہ تمھاری رسمی دین داری ہی اصل دین داری ہے۔ اور اسی کے ذریعہ تم خدا کی نصرتوں کو حاصل کرو گے اور آخر کار جنت میں پہنچ جاؤ گے۔ یہ بلاشبہ گم راہی ہے۔ جو لوگ اس گم راہی سے بے خبر ہیں، وہ اندھے پن کا شکار ہیں اور جو لوگ اس سے باخبر ہیں لیکن وہ اس کے بارے میں خاموش ہیں، وہ حدیث کے الفاظ میں ’’گونگے شیطان‘‘ بنے ہوئے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں اصلاح امت کا سب سے بڑا کام یہی ہے کہ مسلمانوں کو اس تباہ کن غلط فہمی سے باہر لایا جائے ۔

پچھلی امتیں جس بگاڑ کا شکار ہوئیں ، اُس بگاڑ کو قرآن میں امانی (البقرہ: 78) کہا گیا ہے۔ امانی سے مراد خوش فہمی (wishful-thinking) ہے، یعنی کچھ رسمی اعمال کرنا اور اُس پر بڑے بڑے انعامات کی امید قائم کر لینا ۔ یہی پچھلی امتوں کا بگاڑ تھا، اور حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، یہی خود مسلمانوں کے ساتھ بھی دورِ آخر میں پیش آئے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues

Printed page