Al-Risala · November 2009 · page 27

فخر اور نفرت

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۷

فخر اور نفرت

انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد کے اندر ایک نفسیات مشترک طور موجود رہتی ہے ۔ فخر اور نفرت ۔ فخر کا جذبہ اپنے لیے ، اور نفرت کا جذبہ دوسروں کے لیے ۔ ہر آدمی انھیں دو احساسات کے درمیان جیتا ہے اور انھیں دواحساسات کے درمیان مر جاتا ہے۔

یہ دونوں جذبات اتنے قوی ہیں کہ فخر کا اگر صرف ایک ذرہ اسے مل جائے تو اس کو لے کر وہ اپنے فخر کا گنبد کھڑا کر دیتا ہے ۔ اس طرح اگر اُس کو نفرت کا ایک ذرہ مل جائے تو اُس کو لے کر وہ دوسروں کو نفرت کا موضوع بنا لیتا ہے ۔ یہ دونوں جذبے اتنا زیادہ عام ہیں کہ اُس کو انسان کا عالمی مزاج کہا جا سکتا ہے۔

اس مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر آدمی اپنے بارے میں فخر کی نفسیات میں جیتا ہے، اور دوسرے کے بارے میں نفرت کی نفسیات میں ۔ یہ دونوں جذبات دھیرے دھیرے انسان کے لاشعور کا حصہ بن جاتے ہیں، یہاں تک کہ انسان کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ اُس کو اس معاملے میں سوچنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ ہر صورتِ حال میں یہ چیزیں اپنے آپ اس کے اندر پیدا ہوتی رہتی ہیں ۔ ہر صورتِ حال اپنے آپ اُس کو اپنے لیے فخر کی غذا دینے والی بن جاتی ہے۔

اس طرح ہر صورتِ حال اپنے آپ اُس کو دوسروں کے بارے میں نفرت کی غذا دیتی رہتی ہے ۔ یہ دو طرفہ نفسیاتی عمل آدمی کے اندر اس طرح مسلسل طور پر جاری رہتا ہے کہ اس میں اس کی کنڈیشننگ ہو جاتی ہے۔

یہ برائی آدمی کے اندر سوچے بغیر اپنے آپ پیدا ہوتی ہے ۔ لیکن جب اُس کو ختم کرنا ہو تو آدمی کو سوچ کر اسے ختم کرنا ہوتا ہے ۔ یہ اس معاملے کا سب سے زیادہ نازک پہلو ہے ۔ اس معاملے میں کوئی شخص اپنی اصلاح اُسی وقت کر سکتا ہے ، جب کہ وہ شعوری طور پر اس کو دریافت کر لے ، وہ شعوری طور پر اپنے اوپر اصلاح کا عمل کرنے لگے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues

Printed page