Al-Risala · November 2009 · page 29

شریعت محمدی کا نفاذ

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۹

شریعت محمدی کا نفاذ

موجودہ زمانے میں انقلاب پسند مسلمانوں کا ایک عمومی نعرہ وہ ہے جس کو شریعتِ محمدی کا نفاذ کہا جاتا ہے۔ یہ بلا شبہ ایک خود ساختہ نعرہ ہے۔ اس کی تائید قرآن اور حدیث سے نہیں ہوتی۔ اس کے برحق ہونے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن اور حدیث میں کوئی حکم اس طرح کے الفاظ میں آیا ہو: نفذ شریعۃ محمد (شریعتِ محمدی کو نافذ کرو) اور جب قرآن اور حدیث میں کوئی حکم اس طرح کے الفاظ میں نہ آیا ہو تو اس کی بنیاد پر سیاست چلانا بلا شبہ ایک مُبتد عانہ سیاست ہے، وہ کوئی اسلامی کام نہیں۔

نفاذِ شریعت کا تصور کوئی سادہ تصور نہیں، یہ اسلام کے اندر ایک بہت بڑی برائی داخل کرنے کے ہم معنی ہے۔ اس تصور نے اسلام کو بزور نفاذ (forceful implementation) کا موضوع بنا دیا ہے، حالاں کہ اسلام اپنی حقیقت کے اعتبار سے اختیارانہ پیروی کا نام ہے۔ "نفاذِ شریعت‘‘ ایک خوب صورت لفظ ہے، لیکن عملی نتیجے کے اعتبار سے وہ تخریب کاری ہے، اور صرف تخریب کاری۔ اسلام کو جب اختیارانہ پیروی کے اعتبار سے لیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فرد کے اندر مثبت ذہن پیدا ہوتا ہے، سماج کے اندر تعمیری قدریں فروغ پاتی ہیں، اجتماعی زندگی کے ہر شعبے میں امن قائم ہوتا ہے، وغیرہ۔ اس کے برعکس، جب اسلام کو بزور نفاذ کا موضوع بنا دیا جائے تو اس کے نتیجے میں لازمی طور پر انتہا پسندی (extremism) کا مزاج ہوتا ہے۔ سماج میں رواداری (tolerance) کا مزاج ختم ہو جاتا ہے۔

اس کے نتیجے میں پہلے لوگوں کے اندر شدت پسندی آتی ہے۔ جب شدت پسندی سے مقصد حاصل نہ ہو تو مسلح ٹکراؤ شروع ہو جاتا ہے، اور جب وہ بھی ناکافی ہو تو اس کے بعد وہ آخری برائی پیدا ہو جاتی ہے جس کو خودکش بم باری (suicide bombing) کہا جاتا ہے۔ اور خودکش بم باری بلا شبہ وہ برائی ہے جس کے بعد برائی کا کوئی اور درجہ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues

Printed page