Al-Risala · November 2009 · page 31

تاریخ کے تین دور

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۱

تاریخ کے تین دور

کائنات کی عمر تقریباً 15 بلین سال بتائی جاتی ہے۔ زمین پر انسان کی عمر تقریباً 50 ہزار سال ہے۔ زمین پر انسانی تاریخ کے تین دور ہیں_ ابتدائی دور تہذیب تک، روایتی فریم ورک سے سائنٹفک فریم ورک تک، غیر معیاری دنیا سے معیاری دنیا تک:

From primitive age to modern civilization. From traditional framework of mind to scientific framework of mind. From imperfect world to a perfect world. انسانی تاریخ کا ابتدائی دور تہذیبی ارتقاء کا دور ہے۔ وہ آدم اور حوا کے بعد شروع ہوا اور بیسویں صدی عیسوی کے آخر میں اپنی تکمیل تک پہنچ گیا۔

قدیم زمانے میں انسان کے پاس سوچنے کا جو فریم ورک تھا، وہ روایتی فریم ورک تھا۔ اس میں دھیرے دھیرے ترقی ہوئی، یہاں تک کہ جدید سائنس (modern science) کا دور آیا اور انسان کو سوچنے کے لیے سائنٹفک فریم ورک حاصل ہو گیا۔

موجودہ دنیا میں وہ تمام مادی چیزیں موجود ہیں جن کو انسان چاہتا ہے۔ لیکن موجودہ دنیا کی کوئی بھی چیز معیاری چیز نہیں۔ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے معیار پسند (idealist) ہے، لیکن موجودہ دنیا اُس کی نسبت سے ایک غیر معیاری دنیا ہے۔ یہ تضاد آخر کار ختم ہوگا۔ اس معیاری دنیا کے بننے کا وقت اب بہت قریب آ چکا ہے۔ مگر اس معیاری دنیا میں صرف منتخب افراد کو جگہ ملے گی_ موجودہ دنیا میں جن لوگوں نے اپنی اہلیت ثابت کی ہوگی، اُن کو منتخب کر کے اگلی معیاری دنیا میں بسا دیا جائے گا۔ باقی لوگ عالمی کوڑے خانے میں ڈال دیے جائیں گے، پہلا گروہ ابدی راحتوں کی دنیا میں جگہ پائے گا، اور دوسرا گروہ ابدی محرومی کی دنیا میں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues

Printed page