Al-Risala · November 2009 · page 35

خدا کا اعتراف نہیں

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۵

خدا کا اعتراف نہیں

آج کل یہ رواج ہے کہ ایک شخص پیسہ کمائے گا اور اس کے بعد وہ ایک کار خرید کر اپنے بیٹے کو دے گا۔ کار کے شیشہ پر لکھا ہوا ہوگا باپ کی طرف سے تحفہ (Dad's Gift)۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ناشکری کا کلمہ ہے۔ ایک نعمت جو حقیقتہً خدا کی طرف سے ملی ہے، اس کو خدا کی طرف منسوب نہ کرنا، بلکہ اس کو خود اپنے کمالات کے خانے میں ڈال دینا، یہ خدا کے ساتھ بے اعترافی کا معاملہ کرنا ہے، اور خدا کے ساتھ بے اعترافی بلاشبہ خدا کی اس دنیا میں سب سے بڑے جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔

قرآن کی سورہ نمبر 27 میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر سلیمان بن داؤد کو ایک مادی نعمت ملی تو انھوں نے فوراً کہا: هذا من فضل ربي (النمل: 40) یعنی یہ میرے رب کے فضل میں سے ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ پیغمبر نے اس کو خدا کی طرف سے عطیہ (God's gift) قرار دیا۔ یہی صحیح ایمانی طریقہ ہے۔ صاحب ایمان وہ ہے جو ہر چیز کو خدا کی چیز سمجھے، جو ہر ملی ہوئی چیز کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہوئے خدا کا اعتراف کرے۔

دنیا میں انسان کو جو چیزیں ملتی ہیں، وہ بہ ظاہر خود اپنی کوشش کے ذریعے ملتی ہیں، لیکن یہ صرف اس کا ظاہری پہلو ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز مکمل طور پر خدا کا عطیہ ہوتی ہے۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری پردے کو پھاڑے، وہ اصل حقیقت کو دریافت کرتے ہوئے ہر ملی ہوئی چیز پر یہ کہہ دے کہ یہ میرے رب کا عطیہ ہے جو براہ راست طور پر خدا کی طرف سے مجھ کو دیا گیا۔ اسی اعتراف (acknowledgment) کا مذہبی نام شکر ہے۔ یہاں اُسی شخص کو جائز طور پر رہنے کا حق حاصل ہے جو شکر و اعتراف کی نفسیات کے ساتھ اس دنیا میں رہے۔ شکر کی یہی نفسیات موجودہ دنیا میں کسی کو جائز طور پر جینے کا حق دیتی ہے۔ اس کے برعکس، جن لوگوں کے اندر ناشکری اور بے اعترافی کی نفسیات ہو، وہ خدا کی اس دنیا میں مجرم اور درانداز (intruders) کی حیثیت رکھتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues

Printed page