Al-Risala · November 2009 · page 36

بچوں کا قبرستان

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۶

بچوں کا قبرستان

ایک تعلیم یافتہ مسلمان ہمارے مشن سے جڑے ہوئے تھے۔ اُس وقت ان کے یہاں اولاد نہیں تھی، پھر ان کے یہاں بچے پیدا ہوئے ۔ اِس کے بعد وہ دھیرے دھیرے مشن سے دور ہو گئے ۔ ایک عرصے کے بعد ان سے ملاقات ہوئی ۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے دعوتی کام کو کیوں چھوڑ دیا ۔ انھوں نے کہا بچوں کی ذمے داریاں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ اب وقت نہیں ملتا۔ موجودہ زمانے میں یہی کم وبیش ہر آدمی کا حال ہے ۔ لوگوں کے لیے ان کے بچے ان کا قبرستان بنے ہوئے ہیں ۔ ہر آدمی کے لیے اس کے بچے اس کا واحد کنسرن (sole concern) ہیں۔ ہر آدمی اپنا پیسہ ، اپنا وقت، اپنی انرجی، غرض جو کچھ اس کے پاس ہے، وہ اس کو اپنے بچوں کے لیے وقف کئے ہوئے ہے۔ دوسروں کے لیے اس کے پاس صرف زبانی ہمدردی (lip service) ہوتی ہے، اور اپنی اولاد کے لیے حقیقی عمل، حتیٰ کہ خدا کے لیے یا خدائی کام کے لیے بھی اس کے پاس صرف الفاظ ہوتے ہیں، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

آج جس شخص سے ملاقات کیجئے، وہ اپنے بچوں کے مستقبل (future) کے لیے فکر مند ہوگا، لیکن وہ خود اپنے مستقبل کے لیے فکر مند دکھائی نہ دے گا۔ یہ عین وہی صورتِ حال ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: أذهب آخرته بدنیا غیره ۔ یعنی سب سے زیادہ گھاٹے میں وہ شخص ہے جو دوسرے کی دنیا بنانے کے لیے اپنی آخرت کھودے۔

اس معاملے کا سب سے زیادہ اندوہناک پہلو یہ ہے کہ لوگ محبتِ اولاد میں اتنا زیادہ غرق ہیں کہ وہ اس حدیثِ رسول کا مصداق بن گئے ہیں: حُبُّكَ الشيءِ يعمى ويُصم ۔ اولاد کی محبت ان پر اتنا زیادہ غالب ہے کہ وہ یہ بھی سوچ نہیں پاتے کہ ہم اولاد کے مستقبل کو بنانے کی فکر میں خود اپنے مستقبل کو تباہ کر رہے ہیں ۔ اس بنا پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے پاس زیادہ اہم کاموں کے لیے وقت نہیں۔ مثلاً دینی مطالعہ، دعوتِ ورک، آخرت کو سامنے رکھ کر اپنے معاملات کی منصوبہ بندی ، وغیرہ ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues

Printed page