Al-Risala · November 2009 · page 39

حرص، قناعت

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۹

حرص، قناعت

یکم جون 2009 کو مسٹر ایس کے سیف الدین (مدراس) سے دہلی میں ملاقات ہوئی۔ انھوں نے نصیحت کے لئے کہا۔ میں نے ان کی ڈائری میں یہ الفاظ لکھے: ’’پرسکون زندگی کا راز کم پر راضی ہونا ہے نہ کہ زیادہ کی تلاش میں رہنا۔ کم کی حد ہے لیکن زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ اس لیے ایسا ہوتا ہے کہ کم پر راضی ہونے والے کو پرسکون زندگی ملتی ہے۔ لیکن زیادہ کی تلاش کرنے والا کبھی پرسکون زندگی حاصل نہیں کر پاتا‘‘۔ مذہب کی اصطلاح (religious term) میں کم پر راضی ہونے کا نام قناعت ہے اور زیادہ کی تلاش میں رہنے کا نام حرص۔ انھیں دو لفظوں میں زندگی کی پوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔ جو آدمی اس حقیقت کو جان لے، وہی عارف ہے۔ اور جو آدمی اس حقیقت سے بے خبر رہے، وہی وہ انسان ہے جس کو معرفت حاصل نہیں ہوئی۔

اصل یہ ہے کہ انسان کی خواہشیں لامحدود ہیں، لیکن موجودہ دنیا ہر اعتبار سے محدود ہے۔ محدود دنیا میں لامحدود خواہشات کی تکمیل نہیں ہو سکتی، اس لئے جو لوگ موجودہ دنیا میں اپنی خواہشات کو لامحدود طور پر پورا کرنا چاہیں، وہ ہمیشہ بے اطمینانی کا شکار رہیں گے۔ طلب اور مطلوب کے درمیان فرق ہی کا نام بے اطمینانی ہے۔ جو لوگ اپنی طلب کو محدود نہ کریں، ان کے لئے یہی مقدر ہے کہ وہ ہمیشہ بے اطمینانی میں مبتلا رہیں اور اسی حال میں مر جائیں۔ ایسی حالت میں عقل مندی یہ ہے کہ آدمی حقیقت واقعہ کو تسلیم کرے، اور حرص کے طریقہ کو ناممکن سمجھ کر قناعت کے طریقہ کو اختیار کر لے۔ قناعت حقیقت پسندانہ رویہ کا دوسرا نام ہے، اور حرص غیر حقیقت پسندانہ رویہ کا دوسرا نام۔ قناعت کا طریقہ فطرت کے قانون سے موافقت کرنے کا نام ہے، اس کے مقابلے میں، حرص فطرت کے قانون سے عدم موافقت کا نام۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues

Printed page