انفرادی آداب ، اجتماعی آداب
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۸
انفرادی آداب ، اجتماعی آداب
اگر آپ چند آدمی کے ساتھ کسی مقام پر بیٹھے ہیں۔ قریب کی مسجد سے اذان کی آواز آتی ہے۔ اذان کی آواز سن کر اگر آپ خاموشی کے ساتھ اٹھیں اور مسجد کی طرف تنہا روانہ ہو جائیں تو یہ انفرادی آداب کا معاملہ ہے۔ ایسے موقع پر اس طرح خاموشی کے ساتھ چلے جانے کی نوعیت دوسری ہے۔ اس کے برعکس، اگر آپ ایک ادارہ کے باقاعدہ رکن ہوں اور آپ کی یہ ذمہ داری ہو کہ آپ وہاں روزانہ وقت پر آئیں اور مقررہ ذمہ داریوں کو پابندی کے ساتھ ادا کریں۔ اس دوسری صورت میں اگر آپ اپنے ادارے سے اچانک اٹھ کر بغیر کچھ کہے ہوئے روانہ ہو جائیں۔ بعد کو معلوم ہو کہ آپ اپنے کسی نجی کام سے 10 دن کے لئے چلے گئے تھے تو اس طریقہ کا تعلق اجتماعی آداب سے ہے۔ اور اجتماعی آداب کی نسبت سے یہ طریقہ سخت قابل اعتراض ہے۔
عام طور پر لوگ انفرادی آداب کے معاملہ میں کافی معلومات رکھتے ہیں، لیکن اجتماعی آداب کے معاملہ میں لوگوں کو بہت کم باتیں معلوم ہیں۔ انفرادی آداب کے بارے میں لوگوں کا شعور جتنا بیدار رہتا ہے، اجتماعی آداب کے بارے میں لوگ اتنا ہی زیادہ بے شعوری میں مبتلا ہیں۔ انفرادی آداب اور اجتماعی آداب میں یہ فرق ہے کہ انفرادی آداب ذاتی محرک کے تحت ہوتا ہے۔ ہر آدمی اپنی ذات کے بارے میں حساس ہوتا ہے، اس لیے وہ انفرادی آداب کے معاملے کو جلد سمجھ لیتا ہے اور اس کو اپنی زندگی میں شامل کر لیتا ہے۔ لیکن اجتماعی آداب کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔
اجتماعی آداب کے معاملے میں آپ کو دوسروں کے احساسات کو جاننا ہوتا ہے، اجتماعی آداب کے معاملے میں آپ کو اپنے سے باہر کی دنیا کا لحاظ کرنا پڑتا ہے۔ اجتماعی آداب کے معاملے میں انسان کو زیادہ حساس اور زیادہ باشعور ہونا چاہیے، ورنہ وہ اس معاملے میں بے شعوری کا شکار ہو جائے گا اور ایسی غلطیاں کرے گا جو اجتماعی شریعت کے اعتبار سے قابل معافی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues