When I am speaking, I am not thinking.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۴۵
بات اور صریح الزام ہے۔ اس الزام کے رد میں یہاں طوالت کے خوف سے میں دوبارہ اول الذکر شخصیت کی مثال پیش کرنا چاہوں گا۔ جب مولا نا ابو الحسن علی ندوی کا 31 دسمبر 1999 کو انتقال ہوا تو مولا نا وحید الدین خاں صاحب نے انتہائی عقیدت مندانہ انداز میں مولا نا علی میاں صاحب کی دینی وملی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ایک جامع اور مفصل تحریر’’صدی کی شخصیت‘‘ کے عنوان سے لکھی تھی جوالرسالہ مارچ 2000ء کے شمارے میں شائع ہوئی تھی اور بعد میں یہی تحریر ندوۃ العلماء لکھنؤ سے شائع ہونے والے پندرہ روزہ ’’تعمیر حیات‘‘ کے خصوصی شمارہ ’’مفکر اسلام نمبر‘‘ (10 جولائی تا 25 اگست 2000ء) میں بھی شائع ہوئی تھی۔ سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ تحریر عنوان اور مواد کے اعتبار سے مولانا ابوالحسن علی ندوی کے دینی وملی خدمات پر لکھی گئی تمام تحریروں پر بھاری تھی، حتی کہ خود اہل ندوہ کی تحریروں پر بھی۔ اس کے ایک ایک لفظ سے خلوص ومحبت اور قلبی تعلق کے موتی ٹپکتے تھے۔ یہاں اس تحریر کا ایک مختصر اقتباس بطور نمونه ملاحظہ کیجیے:
’’مولانا ابوالحسن علی ندوی ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے اندر بیک وقت مختلف اور متنوع خصوصیات موجود تھیں۔ مولانا سید مناظر احسن گیلانی نے کہا تھا کہ یورپ میں جو کام اکیڈمی کرتی ہے وہ ہمارے یہاں ایک آدمی کرتا ہے۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی اسی قول کا ایک زندہ نمونہ تھے۔ وہ ایک فرد تھے، مگر انھوں نے کئی اداروں ’’تاثرات سفر‘‘ کے عنوان کے تحت لکھی گئی زیر نظر تحریر نے جو نہایت اہم معلومات فراہم کی ہے، وہ یہ ہے کہ اہل علم حضرات مولانا کی تحریروں خاص طور پر الرسالہ کو بڑی پابندی سے استفادہ کی غرض سے پڑھتے ہیں۔ اور اس سچائی کو، خواہ وہ اس کا اظہار کریں یا نہ کریں اپنی جگہ تمام علماء یہ مانتے ہیں کہ مولانا فکری اعتبار سے موجودہ دور کے ممتاز اور مستند عالم دین اور قائد ملت ہیں اور انھوں نے جس طرح کی دینی، علمی، اصلاحی، تعمیری اور فکری خدمات انجام دیں اور اسلام کو از سر نو دریافت کے طور پر نئی نسل کے سامنے رکھا اور اسے یہ احساس دلایا کہ اسلام کوئی فرسودہ اور نا قابل عمل مذہب نہیں ہے، بلکہ یہ بالکل آج کی چیز ہے، وہ صرف انھیں کا حصہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا نے اس سلسلے میں عصری اسلوب میں ایسا طاقتر ولٹریچر تیار کیا ہے جو ہر اعتبار سے قابل استفادہ اور آنے والے علماء کے لئے دین کی تبلیغ کے سلسلے میں قابل تقلید نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے (غلام نبی کشافی، سری نگر، کشمیر، 24 اگست 2009)۔ 6- امریکہ کی جیل میں اصلاحی کام کرنے والے ادارے کی طرف سے ایک خط موصول ہوا۔ ادارے کی فرمائش پر ان کو قرآن کا انگریزی ترجمہ ہدیہ بھیج دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ادارے کا خط درج ذیل ہے: I volunteer at for the Philadelphia Prison Systems on State Road in Philadelphia, PA. Once a month I visit young teenagers from the age of 15-17. The majority of the young men I speak with say they are Muslims but do not have a Quran. I ordered (5) Qurans last week through Amazon
‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues