When I am speaking, I am not thinking.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۴۴
کی حامل ہے کیوں کہ بعض لوگ عموماً یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ الرسالہ کوئی علمی پر چہ نہیں ہے، اس کی ہر تحریر میں اکابرین پر تنقید ہوتی ہے جس کی وجہ سے علماء اس کو قابل اعتنا نہیں سمجھتے۔ مگر یہ بصیرت افروز تحریر اُن کے اس مغالطہ انگیز پروپیگنڈے کی مکمل تردید ہے۔ اس تحریر سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اہل علم کے یہاں الرسالہ اور خود حضرت مولانا کی کیا قدر ومنزلت ہے اور وہ مولانا کی تحریروں سے کس قدر استفادہ کر رہے ہیں۔ ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فارغ علماء پورے عالم اسلام میں معتبر اور اعتدال پسند مانے جاتے ہیں اور جب ندوہ میں علماء اور اساتذہ کا الرسالہ کے تئیں یہ حال ہو تو یہ اس بات کو سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ دوسرے علماء بھی الرسالہ کو بڑے ذوق وشوق سے پڑھتے اور اس سے استفادہ کرتے ہوں گے۔ اس تحریر کے مطالعہ کے بعد مجھ کو مولانا عبد الباری ندوی کی اس بات سے مکمل اتفاق ہو گیا ہے کہ ’’مولانا وحید الدین خاں جدید طبقہ کی طرف مبعوث ہیں‘‘۔ بلاشبہ یہ بات سوفی صد درست ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عالم اسلام کی شہرت یافتہ شخصیت حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی بھی الرسالہ اور مولانا وحید الدین خاں صاحب کی علمی وفکری صلاحیتوں کے معترف تھے اور وہ اس سلسلہ میں مثبت رائے رکھتے تھے۔ الرسالہ ستمبر 1995ء یکساں سول کوڈ‘‘ کے عنوان سے خصوصی شمارے کے طور پر شائع ہوا تو اس شمارے کے حوالے سے ہندوستان کی اہم شخصیات کے متعدد خطوط الرسالہ، اپریل 1996 میں شائع ہوئے تھے جو پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں اور جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ الرسالہ کوئی عام پرچہ نہیں ہے، بلکہ یہ اپنی نوعیت کا واحد پر چہ ہے اور ہر اعتبار سے اہل علم کی خصوصی توجہ کا باعث اور استفادہ کے لائق ہے۔ چناں چہ ان اہم خطوط میں سے یہاں مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کے خط کا ایک حصہ نقل کیا جاتا ہے جس سے الرسالہ کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے: فاضل گرامی و محبّ سامی، مولانا وحید الدین خاں صاحب وفقه اللہ لما يحب ويرضى، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اُمید ہے کہ مزاج بخیر ہوگا۔ الرسالہ بابت ستمبر 1995 چند دن ہوئے ملا۔ اس میں آپ کا فاضلانہ مضمون یکساں سول کوڈ‘‘ مطالعہ میں آیا۔ ہمارے علم میں یہ پہلا فاضلانہ اور مبصرانہ مضمون ہے جس میں یونی فارم سول کوڈ کا عالمانہ، مبصرانہ جائزہ لیا گیا ہے، اور تقابلی مطالعہ، ماہرین فن اور قانون سازوں کے بیانات و تجزیہ کی روشنی میں اس کی سطحیت اور عدم ضرورت ثابت کی گئی ہے۔ آپ ہماری طرف سے اس پر دلی مبارک باد قبول فرمائیں۔ اگر اس کو الگ الرسالہ کی صورت میں شائع کر دیں اور اس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع ہو جائے تو بہت مفید ہوگا۔ انگریزی ترجمہ ماہرین قانون اور سپریم کورٹ کے ججوں کو بھیجا جاسکتا ہے۔ اُمید ہے کہ آپ سنجیدگی سے اس پر غور فرمائیں گے اور عجلت سے کام لیں گے۔ ہم نے یہ نمبر محفوظ کر لیا ہے۔ وہ ایک مرجع اور ماخذ کی حیثیت سے کام دے گا۔ اُمید ہے کہ مزاج ہر طرح بعافیت ہوگا۔ والسلام، طالب دعا ابو الحسن علی ندوی، 20 اگست 1995ء‘‘ کچھ لوگوں کو اس بات پر اشکال ہے کہ مولانا اپنے معاصر علماء کی علمی ودینی خدمات کا اعتراف نہیں کرتے ہیں اور اگر کسی معروف عالم دین کا انتقال ہو جائے تو وہ دو سطر بھی الرسالہ میں نہیں لکھتے، مگر یہ سرتا سرا یک بے بنیاد
‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues