Al-Risala · December 2009 · page 7

کلمہ توحید

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۷

کے اندر اہتزاز (thrill) کی کیفیت پیدا ہوئی۔ وہ اچانک حوض سے نکلا۔ اور یہ کہتا ہوا بھاگا کہ: میں نے پالیا، میں نے پالیا (Eureka, Eureka)۔

اس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ کلمہ کی ادائیگی کیا ہے۔ کلمہ توحید کی ادائیگی دراصل داخلی معرفت کا ایک خارجی اظہار ہے۔ یہ حکم بلاشبہ اسلام کے ارکان میں اولین اہمیت کا حامل ہے، لیکن یہ اہمیت اس کی داخلی معرفت کی بنا پر ہے، نہ کہ صرف لسانی تلفظ کی بنا پر۔

نماز

اسلام کا دوسرا رکن نماز ہے۔ دوسرے ارکان کی طرح نماز کا بھی ایک فارم ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، یہ فارم قیام اور رکوع اور سجود پر مبنی ہے۔ اسی کے ساتھ نماز کی ایک اسپرٹ ہے، وہ اسپرٹ سرنڈر (surrender) ہے، یعنی اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے حوالے کر دینا۔ خدا کو کامل معنوں میں اپنا مرکز توجہ بنا لینا۔ پورے معنوں میں خدا رخی زندگی (God-oriented life) اختیار کر لینا ۔ اسی اسپرٹ کا دوسرا نام قرآن میں ذکر کثیر ( الأحزاب: 41) ہے، یعنی خدا کو بہت زیادہ یاد کرتے ہوئے زندگی گزارنا۔ نماز کا مقصد بھی قرآن میں ذکر بتایا گیا ہے (طُه: 14) ذکر کا مطلب رہی طور پر صرف کسی قسم کی تسبیح خوانی نہیں، بلکہ ہر موقع پر سچے احساس کے ساتھ خدا کو یاد کرتے رہنا ہے۔ آدمی جب دنیا میں زندگی گزارتا ہے تو وہ مختلف قسم کے مشاہدات اور تجربات سے گزرتا ہے۔ اس وقت اس کے اندر وہ چیز پیدا ہونا چاہیے جس کو قرآن میں توَسّم (الحجر : 75) کہا گیا ہے، یعنی ہر دنیوی تجربے کو خدائی تجربے میں کنورٹ کرتے رہنا ۔ ہر چیز سے ربانی غذا حاصل کرتے رہنا۔ حقیقی نماز وہی ہے جو آدمی کے اندر یہ ذہن پیدا کر دے کہ وہ ہر چیز سے اپنے لیے توَسّم کی غذا حاصل کرتا رہے۔

روزہ

اسلام کے ارکان سے تیسرا رکن روزہ ہے۔ روزہ کا فارم یہ ہے کہ آدمی صبح سے شام تک کھانا اور پینا چھوڑ دے۔ وہ اپنے دن کو بھوک اور پیاس کی حالت میں گزارے۔ روزہ کی اسپرٹ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues

Printed page