Al-Risala · December 2009 · page 8

کلمہ توحید

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۸

صبر ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: هو شهر الصبر (رمضان کا مہینہ صبر کا مہینہ ہے)۔ صبر (patience) کیا ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی دنیا میں سلف ڈسپلن (self-discipline) کی زندگی گزارنے لگے۔ وہ اپنی خواہشوں پر روک لگائے۔ وہ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہو۔ وہ اپنی انا کو گھمنڈ نہ بننے دے۔ وہ لوگوں کے درمیان نو پرابلم (no problem) انسان بن کر رہے۔ سماجی زندگی میں جب اس کو کوئی شاک (shock) لگے تو وہ اس شاک کو اپنے اوپر سہے، وہ اس کو دوسرے تک پہنچنے نہ دے۔

نماز کے فارم کے ساتھ جب یہ اسپرٹ شامل ہو جائے تب کسی آدمی کی نماز حقیقی نماز بنے گی، ورنہ حدیث رسول کی زبان میں، اس سے کہہ دیا جائے گا کہ: ارجع فصلّ فإنك لم تصلّ (صحیح البخاری، کتاب الصلاة) یعنی جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ زکوٰۃ اسلام کا چوتھا رکن زکوٰۃ ہے۔ زکوٰۃ کا فارم یہ ہے کہ آدمی اپنی کمائی کے ایک حصے سے اپنی ضرورتوں کو پورا کرے، اور اپنی کمائی کا کچھ حصہ خدا کے حکم کے مطابق، وہ دوسرے انسانوں پر خرچ کرے۔ یہ زکوٰۃ کا فارم ہے۔ زکوٰۃ کی اسپرٹ انسان کی خیر خواہی ہے، یعنی تمام انسانوں کو اپنا سمجھنا۔ حقیقی معنوں میں انسان دوست رویہ (human-friendly behaviour) اختیار کرنا۔ صرف اپنے لیے جینے کے بجائے، ساری انسانیت کے لیے جینا۔ آدمی اگر زکوٰۃ کی رقم دے دے، لیکن دل سے وہ انسانوں کا خیر خواہ نہ بنے تو اس کی زکوٰۃ ادھوری زکوٰۃ مانی جائے گی۔ ایسے آدمی کی زکوٰۃ پورے معنوں میں زکوٰۃ نہیں ہوگی۔

حج

اسلامی ارکان میں سے پانچواں رکن حج ہے۔ حج کے لفظی معنی ہیں قصد کر کے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا۔ شرعی اصطلاح میں، حج سے مراد وہ عبادتی سفر ہے جس میں آدمی اپنے وطن سے نکل کر مکہ (عرب) جاتا ہے اور وہاں ماہ ذوالحجہ کی مقرر تاریخوں میں حج کے مراسم ادا کرتا ہے اور خدا کے نام

‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues

Printed page