کلمہ توحید
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۹
پر جانور کو قربان کرتا ہے۔ یہ حج کا فارم ہے۔ حج کی اسپرٹ قربانی (sacrifice) ہے۔ حج کا فارم اور حج کی اسپرٹ دونوں جب کسی کی زندگی میں اکٹھا ہوں تو وہ حج کی عبادت کرنے والا اقرار پاتا ہے۔ حج کے دوران منیٰ کے مقام پر تمام حاجی، جانور کی قربانی پیش کرتے ہیں۔ انھیں تاریخوں میں دنیا بھر میں مختلف مقامات پر مسلمان عیدالاضحیٰ مناتے ہیں۔ عیدالاضحیٰ گویا کہ حج کی عبادت میں ایک قسم کی جزئی شرکت ہے۔ عیدالاضحیٰ کے ذریعے تمام دنیا کے مسلمان مکہ میں کئے جانے والے حج کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اے خدا کے رسول، یہ قربانیاں کیا ہیں (ما هذه الأضاحي يا رسول الله)۔ آپ نے فرمایا کہ یہ تمھارے باپ ابراہیم کی سنت ہے (سنة أبيكم إبراهيم) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کے زمانے میں جو قربانی دی جاتی ہے، وہ اُس طریقے پر عمل کرنے کے لیے ہوتی ہے جس کا نمونہ حضرت ابراہیم نے قائم کیا تھا۔ اس لیے حج اور قربانی کی حقیقت کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ اس پہلو سے پیغمبر خدا، حضرت ابراہیم کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے۔ اس مطالعے سے نہ صرف یہ ہوگا کہ ہم کو حج اور قربانی کا تاریخی پس منظر معلوم ہوگا، بلکہ اس کی اصل حقیقت کو سمجھنا بھی ہمارے لیے ممکن ہو جائے گا۔ حج یا عیدالاضحیٰ میں قربانی دراصل حضرت ابراہیم کی سنت کو دوبارہ زندہ کرنے کا عہد ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حضرت ابراہیم کی زندگی کی روشنی میں قربانی کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ ذبح عظیم قرآن کی سورہ نمبر 37 میں حضرت ابراہیم کے واقعے کا ذکر ہے۔ آپ نے اپنے ایک خواب کے مطابق، اپنے بیٹے اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے زمین پر لٹا دیا۔ اُس وقت، اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے نے بتایا کہ تمھاری قربانی قبول ہوگئی، اب تم بیٹے کے بدلے ایک دنبہ ذبح کر دو۔ چناں چہ آپ نے ایسا ہی کیا۔ اُس موقع پر قرآن میں یہ آیت آئی ہے: وفديناه بذبح عظيم (الصافات: 107) یعنی ہم نے اسماعیل کو ایک عظیم قربانی کے ذریعے بچالیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues