Al-Risala · December 2009 · page 18

قربانی کی حقیقت

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۸

مسلسل زندہ رکھیں گے، یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔

اس ابراہیمی عمل میں قربانی کو مرکزی درجہ حاصل ہے۔ یہ ایک عظیم عمل ہے جس کی کامیاب ادائیگی کے لیے قربانی کی اسپرٹ ناگزیر طور پر ضروری ہے۔ اس قربانی کی اسپرٹ کو مسلسل طور پر زندہ رکھنے کے لیے حج کے زمانہ میں منیٰ میں، اور عیدالاضحیٰ کی صورت میں تمام دنیا کے مسلمان اپنے اپنے مقام پر جانور کی قربانی کرتے ہیں اور خدا کو گواہ بنا کر اس اسپرٹ کو زندہ رکھنے کا عہد کرتے ہیں۔ حج اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر جانور کی جو قربانی کی جاتی ہے، وہ دراصل جسمانی قربانی کی صورت میں مقصد قربانی کے عزم کے ہم معنیٰ ہے۔ یہ دراصل داخلی اسپرٹ کا خارجی مظاہرہ ہے: It is an external manifestation of internal spirit. آدمی کے اندر پانچ قسم کے حواس (senses) پائے جاتے ہیں۔ نفسیاتی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جب کوئی ایسا معاملہ پیش آئے جس میں انسان کے تمام حواس شامل ہوں تو وہ بات انسان کے دماغ میں زیادہ گہرائی کے ساتھ بیٹھ جاتی ہے۔ قربانی کی اسپرٹ کو اگر آدمی صرف مجرد شکل میں سوچے تو وہ آدمی کے دماغ میں بہت زیادہ ذہن نشین نہیں ہوگی۔ قربانی اسی کمی کی تلافی ہے۔ جب آدمی اپنے آپ کو وقف کرنے کے تحت جانور کی قربانی کرتا ہے تو اس میں عملاً اس کے تمام حواس شامل ہو جاتے ہیں۔ وہ دماغ سے سوچتا ہے، وہ آنکھ سے دیکھتا ہے، وہ کان سے سنتا ہے، وہ ہاتھ سے چھوتا ہے، وہ قربانی کے بعد اس کے ذائقے کا تجربہ بھی کرتا ہے۔ اس طرح اس معاملہ میں اس کے تمام حواس شامل ہو جاتے ہیں۔ وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ قربانی کی اسپرٹ کو محسوس کرتا ہے، وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ قربانی کی اسپرٹ اس کے اندر بھر پور طور پر داخل ہو جائے، وہ اس کے گوشت کا اور اس کے خون کا حصہ بن جائے۔

قربانی کی حقیقت

حج یا عیدالاضحیٰ کے موقع پر جانور کی قربانی دی جاتی ہے۔ اس قربانی کے دو پہلو ہیں۔ ایک اس کی اسپرٹ، اور دوسرے اس کی ظاہری صورت۔ اسپرٹ کے اعتبار سے قربانی ایک قسم کا عہد (pledge)

‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues

Printed page