To give ourselves to you
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۹
ہے۔ قربانی کی صورت میں عہد کا مطلب ہے عملی عہد (pledge in action)۔ عہد کے اس طریقہ کی اہمیت کو عمومی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس میں کسی کو بھی کوئی اختلاف نہیں۔ یہاں اس نوعیت کی ایک مثال دی جاتی ہے، جس سے اندازہ ہوگا کہ قربانی کا مطلب کیا ہے۔ نومبر 1962 کا واقعہ ہے۔ ہندوستان کی مشرقی سرحد پر ایک پڑوسی طاقت کی جارحیت کی وجہ سے زبردست خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ سارے ملک میں سنسنی خیزی کی کیفیت چھائی ہوئی تھی۔ اُس وقت قوم کی طرف سے جو مظاہرے ہوئے، اس میں سے ایک واقعہ یہ تھا کہ احمد آباد کے 25 ہزار نو جوانوں نے مشتر کہ طور پر یہ عزم کیا کہ وہ ملک کے بچاؤ کے لیے لڑیں گے اور ملک کے خلاف باہر کے حملہ کا مقابلہ کریں گے، خواہ اسی راہ میں ان کو اپنی جان دے دینی پڑے۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد انھوں نے یہ کیا کہ ان میں سے ہر شخص نے اپنے پاس سے ایک ایک پیسہ دیا اور اس طرح 25 ہزار پیسے جمع ہوگئے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے ان پیسوں کو اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی خدمت میں پیش کیا۔ پیسہ دیتے ہوئے انھوں نے ہندوستانی وزیر اعظم سے کہا کہ یہ 25 ہزار پیسے ہم 25 ہزار نوجوانوں کی طرف سے اپنے آپ کو آپ کے حوالے کرنے کا نشان ہیں:
To give ourselves to you
مذکورہ نو جوانوں نے اپنی قربانی کا علامتی اظہار 25 ہزار پیسوں کی شکل میں کیا۔ 25 ہزار پیسے خود اصل قربانی نہیں تھے۔ وہ اصل قربانی کی صرف ایک علامت (token) تھے۔ یہی معاملہ جانور کی قربانی کا ہے۔ قربانی کے عمل میں جانور کی حیثیت صرف علامتی ہے۔ جانور کی قربانی کے ذریعے ایک مومن علامتی طور پر اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ اسی طرح اپنی زندگی کو خدا کی راہ میں پوری طرح لگا دے گا۔ اسی لیے قربانی کے وقت یہ کہا جاتا ہے کہ: اللهم منك ولك ، یعنی اے خدا یہ تو نے ہی دیا تھا، اب میں اس کو تیرے سپرد کرتا ہوں۔
جہاں تک قربانی کی اسپرٹ کا سوال ہے، اس میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک عالمی طور پر تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اس قسم کی اسپرٹ کے بغیر کبھی کوئی بڑا کام نہیں ہوسکتا۔ البتہ جہاں
‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues