Al-Risala · December 2009 · page 24

Protein is the main building block of our body.

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۴

آزادی اس راہ میں رکاوٹ ہے کہ اس دنیا میں کبھی کوئی معیاری نظام بن سکے۔ معیاری نظام صرف اس وقت بن سکتا ہے جب کہ تمام لوگ بغیر استثناء اپنی آزادی کو بالکل صحیح صورت میں استعمال کریں، تاہم مختلف اسباب سے ایسا ہونا کبھی ممکن نہیں۔ اس لیے اس دنیا میں معیاری نظام کا بننا بھی کبھی ممکن نہیں۔ تاریخ کے تمام فلسفی اس حقیقت سے بے خبر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام فلسفی اپنے ذہنی ماڈل کے مطابق، معیاری نظام کا خواب دیکھتے رہے۔ مگر فطرت کے قانون کے مطابق، ان کا یہ خواب کبھی پورا نہ ہو سکا۔ یہاں بطور نمونہ چند مثالیں درج کی جاتی ہیں: 1۔ افلاطون (Plato) قدیم یونان کا مشہور فلسفی ہے۔ اس نے 387 ق م میں ایتھنز (Athens) میں ایک رائل اکیڈمی قائم کی۔ اس کا مقصد حکمراں طبقہ (ruling elite) کو ایجوکیٹ کر کے فلا سفر کنگ بنانا تھا۔ اس کا نشانہ یہ تھا کہ اس اکیڈمی میں تیار شدہ فلاسفر کنگ یونان میں آئیڈیل اسٹیٹ قائم کریں گے جو ساری دنیا کے لیے ایک نمونہ کی اسٹیٹ ہوگی۔ شہزادہ الگزنڈر (Alexander) افلاطون کا محبوب شاگرد تھا۔ اپنے باپ فلپ کے مرنے کے بعد 336 میں وہ یونان کا بادشاہ بنا۔ لیکن شاہی تخت پر بیٹھنے کے بعد ہی وہ فلاسفر کنگ کے بجائے ایکسپلائٹر کنگ (exploiter king) بن گیا۔ آئیڈیل اسٹیٹ قائم کرنے کے بجائے اس کا نشانہ یہ ہو گیا کہ وہ ساری دنیا میں اپنا عالمی اقتدار قائم کرے۔ افلاطون کے خواب کے بجائے وہ لارڈ ایکٹن کے اس قول کا مصداق بن گیا: Power corrupts and abslute power corrupts absolutely. آئیڈیل ازم کا یہ فلسفیانہ تصور پوری تاریخ میں چھایا رہا ہے۔ آئیڈیل اسٹیٹ، آئیڈیل سماج، آئیڈیل نظام کا نشانہ ہمیشہ تمام فلسفیوں اور مفکروں کا خوب صورت خواب رہا ہے، مگر یہ خواب کبھی پورا نہ ہو سکا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ یہ خواب اس غلط فکری پر مبنی تھا کہ موجودہ دنیا میں آئیڈیل زندگی صرف جنت میں قابل حصول ہے۔ موجودہ دنیا صرف اس لیے بنی ہے کہ انسان یہاں اپنے آپ کو جنت کا اہل ثابت کرے، تاکہ وہ مرنے کے بعد جنت کی آئیڈیل دنیا میں جگہ پاسکے۔ جس طرح ایک طالب علم کو امتحان ہال کے اندر اپنا مطلوب جواب نہیں مل سکتا، اس طرح

‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues

Printed page