Al-Risala · December 2009 · page 25

Protein is the main building block of our body.

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۵

موجودہ دنیا میں کسی انسان کو آئیڈیل جنت بھی ملنے والی نہیں۔

2- انیسویں صدی عیسوی میں جب سائنسی مشاہدے کا طریقہ دنیا میں رائج ہوا تو فلسفیوں کے اندر ایک نیا فکر پیدا ہوا جس کا یہ کہنا تھا کہ حقیقت وہی ہے جو قابل مشاہدہ (observable) ہو، جو معلوم سائنسی طریقوں کے مطابق قابل تصدیق (verifiable) ہو۔ اسی سوچ کے تحت مختلف اسکول آف تھاٹ بنے۔ مثلاً انیسویں صدی کا فرنچ فلسفی آگوست کامٹے (Auguste Comte) کا پازیٹیو ازم (Positivism) اور بیسویں صدی کے جرمن فلاسفر رڈولف کارنیپ (Rudolf Carnap) کالاجیکل پازی ٹیو ازم وغیرہ۔

اس قسم کے مفکروں اور فلسفیوں نے تقریباً سو سال تک دنیا بھر کے ذہنوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ جو چیز مشاہدہ میں نہ آئے وہ حقیقت بھی نہیں۔ ان نظریات کے تحت وہ فلسفہ پیدا ہوا جس کو سائنسی الحاد (scientific atheism) کہا جاتا ہے۔ ان نظریات کے مطابق، خدا اور مذہب کا عقیدہ علمی اعتبار سے بے بنیاد ثابت ہو گیا۔

علمی حلقوں میں سائنسی الحاد پر چرچا جاری تھا کہ خود سائنس نے اس نظریے کو بے بنیاد ثابت کر دیا۔ سائنس میں یہ تبدیلی اس وقت آئی جب کہ سائنس دانوں نے اس حقیقت کو دریافت کیا جس کو کوانٹم میکینکس (quantum mechanics) کہا جاتا ہے۔ اس دریافت کو عظیم ترین فکری فتح (greatest intellectual triumph) کہا جاتا ہے۔ اس سائنسی نظریہ کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ ایٹمی ذرات کو امواج (waves) سمجھا جانے لگا۔ اس سائنسی دریافت میں خاص طور پر حسب ذیل سائنس دانوں کے نام شامل ہیں:

Paul Dirac, Heisenberg, Jordan, Schrodinger, Einstein اس سائنسی دریافت نے قدیم نیوٹانین میکینکس کو علمی طور پر قابل رد قرار دے دیا۔ اب علم کا دریا عالم کبیر (macro world) سے گزر کر عالم صغیر (micro world) تک پہنچ گیا، یعنی دکھائی دینے والی چیزوں کے علاوہ نہ دکھائی دینے والی چیزیں بھی علم کا موضوع بن گئیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues

Printed page