Al-Risala · December 2009 · page 26

استدلال کی نئی بنیاد

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۶

استدلال کی نئی بنیاد

یہ ایک دور رس فکری انقلاب تھا جو بیسویں صدی کے نصف اول میں پیش آیا۔ اس کے نتیجہ میں جو نظریاتی تبدیلیاں ہوئیں، ان میں سے ایک اہم تبدیلی یہ تھی کہ استدلال کا اصول (principle of reason) بدل گیا۔ اس فکری انقلاب سے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ جائز استدلال (valid argument) وہی ہے جو براہ راست استدلال (direct argument) ہو، یعنی مشاہدہ اور تجربہ پر مبنی استدلال۔ مگر اب استنباطی استدلال (inferential argument) بھی یکساں طور پر جائز استدلال بن گیا۔ جب جوہری ذرات (subatomic particles) ناقابل مشاہدہ ہونے کے باوجود صرف استنباطی استدلال کی بنیاد پر ایک سائنسی واقعہ تسلیم کر لیے گئے تو لازمی طور پر اس کا مطلب یہ بھی تھا کہ استنباطی استدلال کی بنیاد پر خدا کا استدلال بھی عین اسی طرح جائز سائنسی استدلال ہے۔ علماء الہیات خدا کے وجود پر ایک دلیل وہ دیتے تھے جس کو ڈیزائن سے استدلال (argument from design) کہا جاتا ہے۔ یعنی جب ڈیزائن ہے تو ضروری ہے کہ اس کا ایک ڈیزائنر ہو۔ اس استدلال کو پہلے ثانوی استدلال (secondary rationalism) مانا جاتا تھا۔ مگر اب جدید سائنسی انقلاب کے بعد یہ استدلال بھی اسی طرح ابتدائی استدلال (primary rationalism) کی فہرست میں آچکا ہے، جیسا کہ دوسرے معروف سائنسی استدلالات۔

3- انھیں فکری مغالطوں میں سے ایک مغالطہ وہ ہے جس کو ڈارونزم (Darwinism) کہا جاتا ہے۔ اس فکر کو موجودہ زمانہ میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اس نظریہ کے بارے میں بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں اور تمام یونیورسٹیوں میں اس کو باقاعدہ نصاب میں داخل کیا گیا ہے۔ لیکن اس کا سائنٹفک تجزیہ کیجیے تو وہ ایک خوب صورت مغالطہ کے سوا اور کچھ نہیں۔ ڈارونزم کے نظریہ کو دوسرے لفظوں میں عضویاتی ارتقاء (organic evolution) کہا جاتا ہے۔

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بہت پہلے زندگی ایک سادہ زندگی سے شروع ہوئی۔ پھر توالد و تناسل کے ذریعہ وہ بڑھتی رہی۔ حالات کے اثر سے اس میں مسلسل تغیر ہوتا رہا۔ یہ تغیرات مسلسل ارتقائی سفر کرتے

‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues

Printed page