Al-Risala · December 2009 · page 28

Man stands alone

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۸

4 - اسی قسم کا فکری مغالطہ وہ ہے جس کو ہیومنزم (Humanism) کہا جاتا ہے۔ یعنی بنی بر انسان تو جیہہ کا ئنات (human-based explanation of universe)۔ اس فلسفہ کے تحت خدا کے عقیدہ کو حذف کر کے صرف انسان کی بنیاد پر زندگی کی توجیہہ کی جاتی ہے۔ اس نظریہ کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے:۔ سیٹ کا خدا سے ٹرانسفر ہو کر انسان کو دے دینا: Transfer of seat from God to man. اس نظریہ کی حمایت میں بیسویں صدی عیسوی میں بہت سی کتابیں لکھی گئیں۔ انھیں میں سے ایک کتاب وہ ہے جو انگریز فلسفی جو لین ہکسلے (وفات: 1975) نے تیار کر کے شائع کی۔ کتاب کے موضوع کے مطابق، اس کا ٹائٹل یہ تھا:

Man stands alone

یہ کتاب پوری کی پوری صرف دعوئی اور قیاس پر مبنی ہے۔ اس میں کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں۔ مثلاً اس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اب انسان کو وحی کی ضرورت نہیں، اب انسان کی رہنمائی کے لیے عقل بالکل کافی ہے۔ مگر اس دعویٰ کی تائید میں کتاب کے اندر کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں۔ امریکی سائنس داں کریسی ماریسین (وفات: 1951) نے خالص علمی انداز میں اس کتاب کا جواب دیا۔ یہ کتاب جولین ہکسلے کے دعویٰ کو بالکل بے بنیاد ثابت کرتی ہے:

Man does not stand alone

5 - بدھ ازم کو موجودہ زمانہ میں سیکولر طبقہ کے درمیان کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کو یہ مقبولیت کسی سائنسی بنیاد پر نہیں ہوئی ہے بلکہ صرف ایک مغالطہ کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ عام طور پر لوگ چیزوں کا سائنسی تجزیہ کر کے اس کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اس بنا پر اکثر لوگ مغالطہ آمیز فکر کا شکار ہوتے ہیں۔ بدھ ازم کی موجودہ مقبولیت بھی انھیں میں سے ایک ہے۔ بدھسٹ فلسفہ کے مطابق انسان نسل در نسل ایک لمبا سفر کر رہا ہے۔ اس کی آخری منزل نرون ہے۔ اس آخری منزل تک پہنچنے کا ایک حتمی کورس ہے۔ یہ علت اور سبب کا کورس ہے۔ ہر عورت یا مرد

‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues

Printed page