Al-Risala · December 2009 · page 29

Man does not stand alone

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۹

اپنے عمل کے مطابق، ایک جنم کے بعد دوسرے جنم میں پیدا ہوتے رہتے ہیں، کبھی اچھی حالت میں اور کبھی بری حالت میں۔ اس نظریہ کو پتر جنم کہا جاتا ہے۔ اور پھر کئی ملین سال تک یہ سفر کرتے کرتے وہ نجات (salvation) تک پہنچتے ہیں جس کو بدھازم میں ’’نروان‘‘ کا نام دیا گیا ہے: یہ فلسفہ صرف ایک مغالطہ ہے۔ پتر جنم کا یہ نظریہ کہتا ہے کہ آدمی اپنے پچھلے جنم میں کئے ہوئے کرم کے مطابق اگلے جنم میں اچھی حالت یا بری حالت میں پیدا ہوتا ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو ہر ایک کو اپنے پچھلے جنم کا حال یاد رہنا چاہیے۔ جس طرح جیل میں سزا پانے والے ایک قیدی کو اپنے پچھلے دنوں کا جرم یاد رہتا ہے، یا ترقی پر پہنچنے والے ایک شخص کو اپنے پچھلے زمانہ کی وہ کوششیں یاد رہتی ہیں جس کی وجہ سے وہ اس عہدے تک پہنچا۔ لیکن جیسا کہ معلوم ہے، دنیا بھر میں بسنے والے عورتوں اور مردوں کو اپنے پچھلے جنم کے بارے میں کچھ بھی یاد نہیں۔

یہ واقعہ پتر جنم کے فلسفہ کو سراسر غیر علمی ثابت کر رہا ہے۔ موجودہ زمانہ میں نفسیات کے تحت انسان کا نہایت تفصیلی مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ یادداشت (memory) انسان کی شخصیت (personality) کا لاینفک حصہ ہے۔ انسانی شخصیت کو اس کی یادداشت سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن پتر جنم کے معاملہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی کی شخصیت ایک جنم سے دوسرے جنم کی طرف اس طرح سفر کرتی ہے کہ اپنے پچھلے زمانہ کے بارے میں اس کی یادداشت اس کے ساتھ موجود نہیں ہوتی۔ کسی آدمی کے اگلے جنم میں اگر اس کی پچھلی شخصیت منتقل ہوتی ہے تو اس کی یادداشت بھی اس کے ساتھ لازماً موجود رہنی چاہیے۔ یہ واقعہ اس پورے نظریہ کو سراسر بے بنیاد ثابت کر رہا ہے۔ قبل سائنسی دور میں فرضی قیاس کے تحت اس قسم کا نظریہ مانا جاسکتا تھا۔ لیکن سائنسی دور میں وہ بالکل نا قابل قبول ہو چکا ہے۔ جدید سائنس نے جس طرح دوسرے تمام فرضی تصورات کو بے بنیاد ثابت کر دیا ہے، اسی طرح پتر جنم کا تصور بھی اب بلاشبہ بے بنیاد قرار پائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues

Printed page