Daily piyo, healthy jiyo
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۲
یہ ایک خودساختہ فارمولا ہے اس کی کوئی بنیاد (base) نہ تو فطرت کے قانون میں ہے اور نہ سائنس کی دریافتوں میں ۔ یہ نظریہ مکمل طور پر ایک غیر فطری نظریہ ہے۔ مثلاً یہ لوگ انسانی دانت کی ساخت کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ انسان کے دانت درندہ جانور سے مختلف ہیں، اس لیے وہ سبزی خور حیوان (herbivorous) ہے، وہ گوشت خور حیوان (carnivorous) نہیں۔ مگر یہ بات درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے دانت درندہ جانور سے مختلف نہیں بلکہ مشابہ ہوتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ درندے جانور کے گوشت کو کچا کھاتے ہیں، اس لیے ان کے دانت مختلف بنائے گئے ہیں۔ لیکن انسان گوشت کو پکا کر کھاتا ہے، اس لیے انسان کے دانت درندہ جانور سے جزئی طور پر مشابہ تو ضرور ہیں لیکن وہ عین اس کے مطابق نہیں۔
جیسا کہ معلوم ہے، سیارہ زمین کا تقریباً 71 فی صد حصہ سمندر ہے جو کہ پانی سے بھرا ہوا ہے۔ زمین میں خشکی کا حصہ نسبتاً بہت کم ہے۔ جب کہ زرعی پیداوار حاصل کرنے کے لیے خشک زمین ضروری ہے۔ زمین کا یہ دستیاب خشک حصہ تمام انسانوں کے لیے زرعی خوراک فراہم کرنے کے لیے بالکل ناکافی ہے۔ جب کہ اسی محدود خشک حصہ پر انسانی آبادیاں ہیں، بڑے بڑے کارخانے ہیں۔ جنگل اور صحرا اور پہاڑ اور جھیل اور دریا ئیں ہیں۔ ایسی حالت میں اگر صرف زرعی خوراک پر انحصار کرنا ہو تو انسانوں کے بڑے حصے کو فاقہ کشی کا شکار ہونا پڑے گا۔
واضح ہو کہ اس وقت کرہ زمین کے اوپر سات بلین سے زیادہ انسان آباد ہیں۔ ایسی حالت میں زرعی خوراک کی یہ کمی صرف لحمی خوراک سے پوری کی جاسکتی ہے جیسا کہ دنیا میں ہو رہا ہے۔ خالق کو یہ بات معلوم تھی ۔ چناں چہ اس نے سمندروں میں نان ویجیٹیرین فوڈ کا بہت بڑا ذخیرہ رکھ دیا۔ اسی کے ساتھ خدا نے فضاؤں میں اڑنے والی چڑیاں بنائیں اور جنگلوں میں مختلف حیوانات پیدا کر دیے۔ یہ سب اس لیے ہوا، تاکہ انسان زرعی خوراک کی کمی لحمی خوراک کے ذریعے پورا کر سکے۔ انڈیا کے ریفرنس میں ڈاکٹر ایم ایس سوامی ناتھن (پیدائش : 1925) انڈیا کے مشہور زرعی سائنٹسٹ ہیں۔ وہ انڈیا
‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues