Daily piyo, healthy jiyo
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۱
بہت بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں جو ہضم کے عمل میں بے حد معاون ہوتے ہیں، وہ مختلف پہلوؤں سے انسان کو طاقت دیتے ہیں:
زندگی بخش بیکٹیریا ہر آن انسان کے جسم میں مختلف طریقوں سے داخل ہوتے رہتے ہیں۔ مذکورہ مشروب اسی عمل کو تیز تر کرنے کی ایک تدبیر ہے۔
معلوم ہوا کہ لحمی غذا انسان کے لیے اختیاری بات نہیں، وہ انسان کی مجبورا نہ ضرورت ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ غذا انسان کے لیے ضروری ہے۔ اس معاملہ میں ویجیٹیریئن فوڈ اور نان ویجیٹیریئن فوڈ کی تقسیم صرف ایک اعتباری تقسیم ہے، وہ حقیقی تقسیم نہیں۔ کیوں کہ اصل حقیقت کے اعتبار سے ہر غذا آخر کار ایک لحمی غذا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ نان ویجیٹیریئن فوڈ میں اس کا لحمی ہونا آنکھوں سے دکھائی دیتا ہے۔ ویجیٹیریئن فوڈ میں بھی لحمی عنصر مکمل طور پر شامل رہتا ہے، اگر چہ وہ آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ نان ویجیٹیریئن آدمی حیوان کبیر (macro organism) کو اپنی غذا بناتا ہے اور نام نہاد ویجیٹیریئن آدمی حیوان صغیر (micro organism) کو اپنی غذا بنا رہا ہے۔ بظاہر دونوں ایک دوسرے سے مختلف دکھائی دیتے ہیں، لیکن حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ غیر فطری نظریہ جو لوگ کہتے ہیں کہ ویجیٹیریئن فوڈ ہی انسان کے لیے صحیح فوڈ ہے، وہ ایک ایسی بات کہتے ہیں جو صرف ان کے اپنے ذہن کی پیداوار ہے۔ ان کے اپنے ذہن کے باہر اس کی کوئی دلیل موجود نہیں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، ان لوگوں کا کلمہ یہ ہے—احساس کو مارنا گناہ ہے، اس کے برعکس احساس کو زندگی دینا نیکی:
‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues