Al-Risala · December 2009 · page 34

Daily piyo, healthy jiyo

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۴

پوچھا گیا کہ اس مسئلہ کا حل کیا ہے۔ ڈاکٹر سوامی ناتھن نے جواب دیا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی کارروائیوں کے ذریعہ عوام کے اندر پروٹینی شعور (protein-consciousness) پیدا کرے ۔ اور اس سلسلہ میں رائے عامہ کو بیدار کرے ۔

غیر لحمی غذاؤں میں دالیں پروٹین حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ اور حیوانی غذاؤں مثلاً دودھ میں زیادہ اعلیٰ قسم کا پروٹین پایا جاتا ہے۔ پروٹین کی ضرورت کا تخمینہ مقدار اور نوعیت دونوں کے اعتبار سے کرنا چاہیے۔ اوسط نشو ونما کے لیے پروٹین کے مرکبات میں 80 قسم کے امینواسید (amino acid) ہونا ضروری ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ غیر لحمی غذاؤں میں بعض قسم کے ایسڈ مثلاً لائسین (Lysine) اور میتھیونین (Methionine) کا موجود ہونا عام ہے، جب کہ جوار میں لائسین کی زیادتی اُن علاقوں میں بیماری کا سبب رہی ہے جہاں کی خاص غذا یہی اناج ہے۔

اگرچہ حیوانی غذا (دودھ) کا بڑے پیمانے پر حصول پسندیدہ چیز ہے، مگر ان کا حصول بہت مہنگا ہے۔ کیوں کہ نباتاتی غذا کو حیوانی غذا کی شکل دینے کے لیے بہت زیادہ قوت ضائع کرنی پڑتی ہے۔ ایگری کلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں دنیا کے تمام حصوں سے گیہوں اور جوار کی قسمیں منگوا کر جمع کی گئیں اور اس اعتبار سے ان کا تجزیہ کیا گیا کہ کس قسم میں کتنے امینو ایسڈ پائے جاتے ہیں۔ تحقیق سے ان میں دلچسپ فرق معلوم ہوا۔ ان میں پروٹین کی مقدار 7 فی صد سے لے کر 16 فی صد تک موجود تھی ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ نائٹروجن کی کھاد استعمال کر کے نصف کے قریب تک ان کا پروٹین بڑھایا جا سکتا ہے۔

کسانوں کے اندر پروٹینی شعور پیدا کرنے کے لیے ڈاکٹر سوامی ناتھن نے یہ تجویز بتائی تھی کہ گیہوں کی خریداری کے لیے قیمتوں کا تعین اس بنیاد پر کیا جائے کہ کس قسم میں کتنا پروٹین پایا جاتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایگری کلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ غلہ کے بعض

‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues

Printed page