Al-Risala · December 2009 · page 35

Daily piyo, healthy jiyo

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۵

بازاروں میں پروٹین جانچ کی ایک سروس جاری کرے گا اور جب اطمینان بخش حقائق جمع ہو جائیں گے تو یہ معیار (criterion) تعیینِ قیمت کی پالیسی میں شامل کیا جا سکے گا۔ غلّے کی مقدار کو بڑھانے اور اس کی قسم (quality) کو بہتر بنانے کے دوطرفہ کام کو نسلی طور پر اس طرح مربوط کیا جا سکتا ہے کہ زیادہ فصل دینے والے اور زیادہ بہتر قسم کے اناج، باجرے اور دالوں کی کاشت کی جائے۔ ذہنی بونے پن (intellectual dwarfism) کا جو خطرہ ہمیں درپیش ہے، اس کا مقابلہ کرنے کا یہ سب سے کم خرچ اور فوری طور پر قابلِ عمل طریقہ ہے۔ ‘‘(اسٹیٹس مین، دہلی، 4 ستمبر 1967)

ڈاکٹر سوامی ناتھن کے مذکورہ بیان کی اشاعت کے بعد مختلف اخبارات و رسائل میں اس پر تبصرے کیے گیے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس (7 ستمبر 1967) نے اپنے اداریے میں جو کچھ لکھا تھا، اس کا ترجمہ یہاں نقل کیا جاتا ہے:

’’انڈسٹری کی طرح زراعت میں بھی ہمیشہ یہ ممکن نہیں ہوتا کہ ایک متحرک پالیسی کے نتائج کا شروع ہی میں اندازہ کیا جا سکے۔ اس طرح جب مرکزی حکومت نے اناج کی قیمت کے سلسلے میں تائیدی پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تو مشکل ہی سے یہ شبہہ کیا جا سکتا تھا کہ غلے کی بہتات کے باوجود پروٹینی فاقہ (protein hunger) کا مسئلہ سامنے آجائے گا_ جیسا کہ انڈین ایگری کلچرل ریسرچ انسٹی ٹیউট کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سوامی ناتھن نے نشاندہی کی ہے۔ غلوں پر زیادہ اعتماد سے ایسی صورت حال پیدا ہوگی جس سے اچھے کھاتے پیتے لوگ بھی ناقص تغذیہ (malnutrition) میں مبتلا ہو جائیں گے۔ جو لوگ پروٹینی فاقہ سے دوچار ہوں گے، جسمانی تکالیف کے علاوہ ان کے ذہنوں پر بھی اثرات پڑیں گے۔ ڈاکٹر سوامی ناتھن کے بیان کے مطابق، یہ ہوگا کہ بچوں کی ذہنی صلاحیت پوری طرح نشو ونما نہیں پائے گی۔ چوں کہ انسانی دماغ اپنے وزن کا 80 فی صد سے لے کر 90 فی صد تک چار سال کی عمر کو پہنچتے پہنچتے پورا

‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues

Printed page