Al-Risala · December 2009 · page 39

خاتمہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۹

سوال و جواب سوال ماہ نامہ الرسالہ، اکتوبر 2009 میں "فلسطین کا مسئلہ" کے عنوان سے لکھے گئے مضمون کو غور کے ساتھ پڑھا۔ اس میں فلسطین کی تاریخ کو بہت ہی اچھے اور معلوماتی انداز میں سلسلے وار بیان کیا گیا ہے جو قارئین کو قیمتی معلومات کے ساتھ ساتھ حقیقت سے آگاہ کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس مضمون کو پڑھ کر بہت سی غلط فہمیاں دور ہوئیں۔ یہاں حسب ذیل سوالوں کا جواب مطلوب ہے : 1 - مسجد اقصی کے کیمپس میں صخرہ ایک چوکور چٹان ہے۔ اسی چٹان کو یہودی اپنے لئے مقدس سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہی وہ صخرہ ہے جس پر حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے اسحاق کی قربانی پیش کی تھی۔ اسلامی تاریخ میں اس قربانی کا مقام منی بتایا گیا ہے۔ یہودیوں کے اس عقیدہ اور تاریخ کی بنیاد کیا ہے۔ کیا تو رات میں اس کا ذکر موجود ہے۔

2- مسجد اقصی کو آپ نے یروشلم کی یہودی عبادت گاہ (ہیکل) بتایا ہے۔ قرآن میں مسجد اقصی کا ذکر ہے جس کے معنی آپ نے دور کی مسجد (farthest place of worship) کے بتائے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون سا مقام یا مسجد ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے موقع پر انبیاء سابقین کو امامت کے ساتھ نماز پڑھائی تھی۔

3- مسجد اقصی میں نماز ادا کرنے پر، اور مسجدوں کے مقابلے میں 25 ہزار، مسجد نبوی میں 50 ہزار اور مسجد حرام میں ایک لاکھ درجہ ثواب بتایا جاتا ہے۔ اس مسجد اقصی سے کیا مراد ہے۔ (ابرار حسین قریشی، مدھیہ پردیش)

جواب

1- یہ ایک عقیدے کی بات ہے، نہ کہ تاریخ کی۔ مسلمان، حضرت اسماعیل کو ذبیح مانتے ہیں اور منیٰ (مکہ) کو قربانی کا مقام قرار دیتے ہیں۔ اس کے برعکس یہود، حضرت اسحاق کو ذبیح مانتے ہیں اور صخرہ (یروشلم) کو اس قربانی کا مقام قرار دیتے ہیں۔ حضرت اسحاق کے ذبیح ہونے کا ذکر یہود کے

‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues

Printed page