Al-Risala · December 2009 · page 40

خاتمہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۴۰

مقدس صحیفہ تو رات کی کتاب پیدائش (Genesis) کے باب 22 میں موجود ہے۔

2- پیغمبر آخر الزماں محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب (صلی اللہ علیہ وسلم) کی امامت میں انبیاء سابقین کی نماز کا ذکر حدیث میں آیا ہے (صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب ذکر المسيح، رقم الحدیث : 278) یہ واقعہ غالباً 621 عیسوی میں پیش آیا۔ تاریخی شواہد کے مطابق ، اُس وقت وہاں مسجد اقصی کی موجودہ عمارت موجود نہ تھی۔ اُس وقت یہ مقام کھنڈر کی صورت میں تھا۔ اِس لیے یہ ماننا ہوگا کہ یہ نماز مسجد اقصی کی سائٹ (site) پر ہوئی ، نہ کہ مسقف عمارت کے اندر۔ 3- قرآن میں مسجد اقصی سے مراد مسجد کی سائٹ (site) ہے۔ حدیث میں جس اقصی کا ذکر ہے، وہ حال کے اعتبار سے سائٹ کے معنی میں ہے اور مستقبل کے اعتبار سے مسقف مسجد کے معنی میں۔ جہاں تک نماز کی فضیلت کی بات ہے، اس کا تعلق مجرد طور پر صرف مقامات سے نہیں ہے، بلکہ ان مقامات کی تاریخی حیثیت سے ہے۔ مسجد حرام کی اہمیت یہ ہے کہ اس سے حضرت ابراہیم کی تاریخ وابستہ ہے۔ جب کوئی شخص مکہ جا کر مسجد حرام میں نماز ادا کرتا ہے تو اس کو اس ابراہیمی تاریخ کی یاد آتی ہے۔ اس بنا پر اس کی نماز میں غیر معمولی کیفیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ انھیں بڑھی ہوئی کیفیات کی بنا پر مسجد حرام میں نماز کی اہمیت ہے، نہ کہ صرف درود دیوار کے اعتبار سے۔

اِسی طرح مسجد نبوی سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ وابستہ ہے۔ وہاں جب آدمی نماز، پڑھتا ہے تو اس تاریخ کی یاد آدمی کے اندر غیر معمولی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔ انھیں کیفیات کی بنا پر مسجد نبوی کی نماز دوسری مساجد کی نماز سے بہت زیادہ مختلف ہو جاتی ہے۔ اِسی طرح مسجد اقصی سے اسرائیلی پیغمبروں کی تاریخ وابستہ ہے۔ جب کوئی شخص مسجد اقصی میں نماز ادا کرتا ہے تو اس تاریخ کی یاد اس کے اندر خصوصی کیفیات پیدا کر دیتی ہے۔ اس طرح یہاں ادا کی ہوئی نماز دوسری مساجدوں کی نماز سے مختلف ہو جاتی ہے۔

موجودہ زمانے میں عرب علماء نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ جب تک مسجد اقصی پر یہود کا قبضہ باقی ہے، اُس وقت تک باہر کے مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ سفر کر کے وہاں جائیں اور مسجد اقصی میں

‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues

Printed page