Al-Risala · January 2009 · page 5

فرق کو جانیے

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۵

فرق کو جانیے

کلام کی دو قسمیں ہیں ــــ ایک، یہ کہ آپ کسی ایسے موضوع پر بات کریں جس سے ایک آدمی کی شخصیت مطعون ہوتی ہو۔ دوسرا کلام وہ ہے جس کے ذریعے کوئی اصول متحقق ہوتا ہو۔ پہلی قسم کا کلام ناجائز اور قابلِ ترک ہے۔ دوسری قسم کا کلام عین جائز ہے، وہ ایک صحت مند طریقہ ہے جس میں صاحبِ کلام کو ہمیشہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

جب کبھی کوئی شخص آپ سے ایک ایسی بات کہے جس میں کسی آدمی کا ایک شخصی عیب بتایا گیا ہو، اُس میں شرکت کو اپنے لیے حرام سمجھیے۔ اس طرح کی ہر بات کو خدا پر ڈال دیجیے۔ اس طرح کی بات میں مشغول ہونے میں آپ کا کوئی فائدہ نہیں ہے، البتہ آپ کا نقصان یقینی ہے۔ کیوں کہ کسی شخص کے بارے میں بُری رائے قائم کرنا اسلام میں جائز نہیں۔

مگر دوسری نوعیت کے کلام کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ ہر وہ گفتگو جس میں کسی اصول کو زیرِ بحث لایا گیا ہو، جس پر چرچا کرنے سے ایک اصولی بات متحقق ہوتی ہو، ایسی گفتگو صاحبِ کلام کے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس سے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے آدمی اس قابل بنتا ہے کہ وہ حقیقتوں کو زیادہ درست طور پر سمجھ سکے۔

اِسی بات کو حدیث میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : اِذا ظننتم فلا تحقّق (المعجم الکبیر للطبرانی، رقم الحدیث: 3227) یعنی جب تمھیں گمان ہو تو اس کی تحقیق نہ کرو۔ یہ حدیث شخصی نوعیت کی چیزوں کے بارے میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تم کسی شخص کے بارے میں بُرا گمان پیدا ہو تو اس کا تَتَبُّع (persuance) نہ کرو۔ مگر جہاں تک اصولی باتوں کا تعلق ہے، اُن کا معاملہ اس سے الگ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اصولی باتوں کا خوب چرچا کرے، تا کہ حقیقت زیادہ متیح ہو کر سامنے آ جائے، تا کہ آدمی معرفت کے زیادہ اعلیٰ مراتب تک پہنچ سکے ـــــ شخصی عیب کا تتبّع ذہنی پستی کا ذریعہ ہے، اور اصولی حقیقت کا تتبّع ذہنی ارتقا کا ذریعہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues

Printed page