لعنت کیا ہے
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۶
لعنت کیا ہے
قرآن کی سورہ نمبر 5 میں ایک خدائی قانون کا ذکر ہے۔ قرآن میں یہ بات یہود کے حوالے سے کہی گئی ہے، مگر اس کا حکم عام ہے۔ اس کا تعلق تمام اہل کتاب قوموں سے ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ”بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا، اُن پر لعنت کی گئی داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے، اس لیے کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے آگے بڑھ جاتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے اُس برائی سے جو وہ کرتے تھے۔ نہایت برا کام تھا جو وہ کر رہے تھے“(المائدہ: 79-78) اس آیت سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کا یہ حال ہو کہ اُن کے معاشرے میں لوگ غلط کام کریں، لیکن وہ ان کی مذمت نہ کریں تو ایسے لوگ خدا کی لعنت کے مستحق بن جاتے ہیں۔ لعنت کا یہ قانون جو قرآن کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے، وہ کثرت سے احادیث میں آیا ہے۔ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم کو برائی کے وقت نہی عن المنکر کا کام کرنا ہوگا۔ اور اگر تم نے برائی کے وقت نہی عن المنکر کا فرض انجام نہیں دیا تو تم بھی اُسی طرح، خدا کی لعنت کے مستحق ہو جاؤ گے جس طرح تم سے پہلے سابق اہل کتاب (یہود) لعنت کے مستحق ہوگئے۔ (سنن أبى داؤد، كتاب الملاحم، باب الأمر والنهي)۔
لعنت کیا ہے۔ لعنت کا مطلب ہے خیر سے دور کر دینا (الإبعاد عن الخير)۔ ایسے لوگوں کے لیے خیر سے یہ دوری دنیا میں قساوت قلب کی شکل میں ہوتی ہے اور آخرت میں عذاب الہی کی شکل میں۔ ایسے لوگ دنیا میں شدید قسم کی بے حسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ حق اور ناحق کے بارے میں اپنی حساسیت (sensitivity) کھو دیتے ہیں۔ اس طرح وہ حیوان کی مانند ہوجاتے ہیں۔ جن لوگوں کا یہ حال ہو، اُن کے اندر عملِ خیر کا جذبہ باقی نہیں رہتا۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں ذلت ہے اور آخرت میں عذاب۔ خدا کا یہ قانون بعد کے اہل کتاب کے لیے بھی اُسی طرح ہے جس طرح وہ قدیم اہل کتاب کے لیے تھا۔ اس معاملے میں کسی گروہ کا کوئی استثنا نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues