Prayer as a Source of Peace.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۴۷
دبئی سے دہلی کے لیے دوبارہ عرب امریٹس کی فلائٹ (510 EK) سے واپسی ہوئی۔ یہ رات کا وقت تھا۔ اس لیے زیادہ وقت کھانے پینے یا سونے میں گزرا، کوئی خاص واقعہ درمیان میں پیش نہیں آیا۔ 20 نومبر 2008 کی صبح 9 بجے ہمارا جہاز دہلی کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اتر گیا۔ میں جہاز سے باہر آیا تو میں نے دیکھا کہ ایئر پورٹ کا آدمی وہاں دوبارہ وییل چڑ لیے ہوئے کھڑا ہے۔ وہ مجھ کو وییل چڑ پر بٹھا کر تیزی سے لے چلا۔ میرے دونوں ساتھی بھی میرے ہم راہ تھے۔ ہم لوگوں کو ونڈو پر پہنچ کر ضروری اندراجات کروانا تھا۔ میں نے دیکھا کہ عام ونڈو پر کافی بھیڑ ہے۔ لیکن مجھ کو نئے راستے سے چلا کر ایک خاص ونڈو پر لے جایا گیا جو کہ خالی تھی۔ ہم تینوں کے کاغذات کو فوراً کلیر کر دیا گیا اور ہم جلد ہی ایئر پورٹ سے باہر آ گئے۔ یہ منظر دیکھ کر میرا دل بھر آیا۔ میں نے کہا کہ خدایا، اسی قسم کا زیادہ سخت مرحلہ آخرت میں پیش آنے والا ہے۔ اُس وقت تو میرے اور میرے ساتھیوں کے ساتھ اسی طرح آسانی کا معاملہ فرما۔ ہم لوگ ایئر پورٹ سے باہر نکلے تو ہمارے یہاں کے ایک کارکن مسٹر اشوک گاڑی کے ساتھ یہاں موجود تھے۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر ہم لوگ دوبارہ نظام الدین ویسٹ پہنچ گئے۔ 15 نومبر 2008 کی شام کو میں دہلی سے قبرص کے لیے روانہ ہوا تھا اور 20 نومبر 2008 کو میں دوبارہ دہلی واپس آگیا۔ جب میں اس سفر پر غور کرتا ہوں تو مجھے یہ پورا سفر ایک خواب معلوم ہوتا ہے۔ مولانا اقبال احمد سہیل (وفات: 1955) نے ایک طویل نظم لکھی تھی۔ اس نظم کا عنوان رویائے صادقہ (سچا خواب) تھا۔ اس نظم کے آخری دو شعر یہ تھے، جو کہ مجھے اپنے حسب حال معلوم ہوتے ہیں: محوِ نظارہ تھا میں، ناگاہ آئی یہ صدا آ گئی صبح مسرت، سونے والو ہوشیار یہ صدا سن کر یکایک میری آنکھیں کھل گئیں پھر وہی میں، اور وہی ہنگامہ لیل و نہار (یہ سفر نامہ مولانا محمد ذکوان ندوی کے تعاون سے تیار کیا گیا)۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues