Al-Risala · March 2010 · page 2

قطرہ کا سفر نامہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۲

قطرہ کا سفر نامہ

قطر ایک خلیجی ملک ہے۔ قطر کی منسٹری آف فارین افئرس (Ministry of Foreign Affairs) کے تحت ایک ادارہ قائم ہے۔ اُس کا نام یہ ہے: مركز الدوحة للدولي لحوار الأديان: Doha International Center for Interfaith Dialogue اِس ادارے کے تحت، دوحہ (قطر) میں ساتویں سالانہ اِنٹرنیشنل کانفرنس 21-20 اکتوبر 2009 کو ہوئی ۔ اس کانفرنس کا متعین موضوع یہ تھا:

التضامن الإنسانی (Human Solidarity)

اِس کانفرنس میں شرکت کے لیے دوحہ اِنٹرنیشنل سنٹر کے صدر ڈاکٹر ابراہیم صالح النعیمی کے دستخط سے ایک دعوت نامہ مورخہ 14 جولائی 2009 ملا۔ اس کے مطابق، دوحہ کا سفر ہوا۔ میرے ساتھ مددگار کے طور پر میرے دو اور ساتھی اس سفر میں شریک تھے۔

باہر کے سفروں میں پہلا مرحلہ ویزا (visa) کا ہوتا ہے۔ عام طور پر ویزا آسانی سے مل جاتا ہے، لیکن اس بار میرے ایک ساتھی کے ویزا کے حصول میں کافی مشکل پیش آئی، یہاں تک کہ آخری دن آگیا۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ قطر کا سفر نہ ہو سکے گا۔ چناں چہ قطر میں مقیم ہمارے ایک ساتھی مولانا عبد الباسط عمری کو اطلاع دے دی گئی کہ اب میرا سفر نہ ہو سکے گا۔ وہ میرے سفر کے بہت زیادہ مشتاق تھے، اس لیے وہ مایوس نہیں ہوئے، چناں چہ انھوں نے مسجد میں جا کر نماز پڑھی اور دعاء کی اور تھوڑی دیر کے اندر ای میل کے ذریعے ہمارے ساتھی کا ویزا، دہلی میں موصول ہو گیا۔ یہ نماز کے ذریعے استعانت کا ایک انوکھا واقعہ تھا۔ اِس قسم کی نماز کو عام طور پر صلاۃ الحاجۃ کہا جاتا ہے۔ صلاۃ الحاجۃ کا ایک انوکھا واقعہ ابھی حال میں میں نے پڑھا ۔ یہ ہمالیہ ڈرگ کمپنی (بنگلور) کے فاؤنڈر حکیم محمد منال الدین (وفات: 1986) کا واقعہ ہے۔ اس واقعے کو مختصرًا ان کے صاحب زادہ محمد معراج الدین منال کے الفاظ میں یہاں نقل کیا جاتا ہے:

‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues

Printed page