Al-Risala · March 2010 · page 3

قطرہ کا سفر نامہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۳

”ایک مرتبہ والد محترم پر سخت وقت آیا۔ آپ کے کام اور کمپنی کی تاریخ میں یہ نہایت پریشان کن مرحلہ تھا۔ یہ مشکل اتنی شدید نوعیت کی تھی کہ ہمالیہ کمپنی اپنی بقا کے لیے اندیشوں میں آگئی تھی۔ دراصل گورنمنٹ کی طرف سے کمپنی کے خلاف ایک نوٹس آیا تھا، اس میں جو اعتراضات تھے، اس کے مطابق، کمپنی کے لیے بند ہو جانے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ تھا۔ اس موقع پر بمبئی میں ممتاز ماہرین قانون کو جمع کیا گیا تھا، مگر ان کے ساتھ طویل مشاورت بھی کسی حل کی طرف لے جانے میں ناکام ثابت ہوئی۔ مگر ٹھیک اُس وقت جب کہ امید کے تمام دروازے بند ہو گئے تھے، ابا جان نے ایک ایسا دروازہ پالیا جہاں صرف امید ہی امید تھی۔ آپ نے ہر بات کا انکار کیا اور نماز میں مشغول ہو گئے۔ آپ نماز سے فارغ ہو کر اُس آفس کو گئے جہاں سے نوٹس آیا تھا۔ آفس کے پاس زینے پر چڑھتے ہوئے ایک دوست سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے تعجب ظاہر کیا کہ منال صاحب آپ یہاں کیسے ۔ ابا نے جواب میں وہ نوٹس دکھایا۔ اس دوست نے کہا یہ آفیسر میرا دوست ہے اور میرے بازو میں بیٹھتا ہے۔ میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں، پھر انھوں نے آفیسر کو بتایا کہ یہ ایسے لوگوں میں سے نہیں ہیں۔ یہ اچھے آدمی ہیں، خواہ مخواہ کیوں ان کو پریشان کرتے ہو۔ اس گفتگو اور متعلقہ تحقیق کے بعد اُس وقت آفیسر نے مذکورہ نوٹس کینسل کیا اور دوسرا نوٹس جاری کیا جو کمپنی کے مفاد میں تھا۔ اس طرح کمپنی پرابلم سے نکل گئی اور الحمد للہ آج بھی کمپنی ترقی کر رہی ہے۔ “ (ایک قابل تقلید اور مثالی شخصیت، صفحہ 21)

یہ طریقہ پیغمبر اسلام ﷺ کی سنت کے عین مطابق ہے۔ روایات میں آپ کے بارے میں آیا ہے کہ : إذا حزبه أمر صلّى (أبو داؤد، كتاب الصلاة) یعنی جب آپ کے ساتھ کوئی سخت معاملہ پیش آتا تو آپ نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے۔ اس قسم کی نماز کو عام طور پر صلاة الحاجة کہا جاتا ہے۔ اس کی روح یہ ہے کہ آدمی مشکل وقت میں اللہ کو یاد کرے اور اُس سے اپنے لیے مدد مانگے۔ پروگرام کے مطابق، 19 اکتوبر 2009 کی صبح کو روانگی ہوئی۔ سفر کے آغاز میں میں نے یہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues

Printed page