World over, 1 in 4 persons is a Muslim.
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۴
دعا کی کہ خدایا، میں تیرے راستے میں یہ سفر کر رہا ہوں، تو اس سفر میں سی 29 سے سی 29 تک (from C-29 to C-29) میرا ساتھی بن جا۔ یہ دعاء اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ میں نے بہت سے اسفار کئے ہیں، مگر اس سفر میں غالباً پہلی بار ایسا ہوا کہ گھر سے ائیرپورٹ تک مسلسل گاڑی چلتی رہی اور تقریباً 25 کلومیٹر کے اس راستے میں کہیں رکنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
روانگی سے پہلے دہلی میں حبیب بھائی (حیدر آباد) کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ ایک چیز مجھے سخت پریشان کرتی ہے۔ جب میں کہیں گفتگو کرتا ہوں یا تقریر کرتا ہوں تو لوگ اکثر غیر متعلق (irrelevant) قسم کے سوالات کرنے لگتے ہیں۔ اس قسم کا سوال سن کر مجھے اکثر غصہ آجاتا ہے۔ میں نے کہا کہ ایسے موقع پر غصے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جب بھی آپ بولتے ہیں تو اُس وقت وہاں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ مخاطب اوّل (first audience) کے طور پر فرشتے موجود رہتے ہیں، اور مخاطب ثانی (second audience) کے طور پر انسان وہاں موجود ہوتے ہیں۔ آپ کسی انسان کے ناپسندیدہ ردعمل پر دھیان مت دیجئے۔ آپ صرف یہ سوچئے کہ ان حاضرین کی وجہ سے آپ کو یہ موقع ملا کہ آپ ایک ایسا ذکرِ اجتماعی کریں جو فرشتوں کے ریکارڈ میں درج ہو جائے۔ قرآن میں مومن کی ایک صفت سیاحت بتائی گئی ہے (التوبة: 112)۔ قرآن کے مطابق، مومن ایک سیاح انسان ہوتا ہے۔ سیاحت یا سیاحی کے لفظی معنی سفر کے ہیں۔ مومن ایک بامقصد انسان ہوتا ہے، اس لیے مومن کا سفر یقینی طور پر وہی ہے جو بامقصد سفر ہو۔ مومن کے مقصد کو قرآن میں دعوت الی اللہ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے، مومن کا سفر وہ ہے جو دعوتی سفر ہو، جس کے سفر میں دعوت ایک لازمی جز کی حیثیت سے شامل ہو۔
واشنگتن (امریکہ) کے ایک ادارہ (Pew Forum on Religion and Public Life) کے ایک حالیہ سروے میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت دنیا کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ بلین سے زیادہ (1.57 billion) ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ انسانی آبادی میں ہر چار میں سے ایک شخص مسلمان ہے:
World over, 1 in 4 persons is a Muslim.
‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues