World over, 1 in 4 persons is a Muslim.
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۶
ہم لوگ تین آدمی تھے۔ کانفرنس میں لوگوں کو دینے کے لیے ہم قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دوسرے اسلامی لٹریچر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ ائیر پورٹ پر پہنچ کر ہمارے ساتھیوں نے اس کو چیک ان (check-in) کردیا۔ قطر کے اس سفر میں غیرمعمولی قسم کی سہولیات کا تجربہ ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ قطر کے اس چارروزہ سفر میں ہم کو غیرمتوقع طور پر اتنی زیادہ سہولتیں (facilities) حاصل رہیں کہ ان کو اگر شاہانہ سفر کہا جائے تو یہ مبالغہ نہ ہوگا۔
دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ہم لوگ داخل ہوئے تو فوراً ہی ائرلائن کی ایک خاتون نے آگے بڑھ کر ہمارا استقبال کیا اور ہم کو ضروری رہنمائی دی۔ یہ منظر دیکھ کر دل سے دعا نکلی کہ خدایا، جب میں آخرت کے گیٹ پر پہنچوں تو وہاں بھی رحمت کا ایک فرشتہ اس عاجز انسان کے استقبال کے لیے موجود ہو۔
ہم لوگ ائیرپورٹ کے اندر داخل ہوئے تو حسب معمول یہاں بہت سے مسافر ہر طرف دکھائی دے رہے تھے، ہندوستانی بھی اور غیرہندوستانی بھی۔ میں نے اُن کو دیکھا تو میں نے محسوس کیا جیسے کہ ہرا ایک خاموش زبان میں یہ کہہ رہا ہے کہ— میرا واحد کنسرن اپنی دنیا کی زندگی کو بہتر بنانا ہے، میری زندگی کا فارمولا صرف یہ ہے:
Right here, Right now!
ائرپورٹ کی رسمی کارروائی کے بعد ہم لوگ وہاں کے لاؤنج (lounge) میں چلے گئے۔ اس میں مسافروں کے لیے ہرقسم کا اعلیٰ انتظام موجود تھا۔ لاؤنج میں میری ملاقات ایک عرب سے ہوئی ۔ وہ مسقط (عمان) سے تعلق رکھتے تھے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ وہ یہاں ''تبلیغ‘‘ میں آئے تھے۔ وہ عربی زبان کے علاوہ کچھ انگریزی بھی جانتے تھے۔ اُن سے میں نے گفتگو کی کوشش کی، مگر معلوم ہوا کہ وہ سادہ قسم کے آدمی ہیں اور زیادہ علمی بات کے عادی نہیں، ہمارے ساتھیوں نے ان کو سی پی ایس کا دعوتی لٹریچر دیا۔ مجھے اس قسم کے کئی تجربات پیش آئے ہیں۔ ان تجربات کی بنا پر میرا
‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues