Al-Risala · March 2010 · page 7

World over, 1 in 4 persons is a Muslim.

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۷

احساس یہ ہے کہ عرب کے جو لوگ یہاں تبلیغ میں آتے ہیں، وہ دراصل عرب کے ’’میواتی‘‘ ہوتے ہیں، نہ کہ وہاں کے اہلِ علم۔

حبیب بھائی (حیدر آباد) سے دوسری بار ٹیلی فون پر بات ہوئی۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ دین میں سب سے زیادہ اہمیت شکر کی ہے۔ ہماری زندگی میں بار بار ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو شکر کے جذبے کو گھٹانے والے ہوتے ہیں۔ ایسے موقع پر مومن کو بہت زیادہ باشعور ہونا چاہئے۔ مومن کے لیے شکر کا ایروژن (erosion) نا قابلِ برداشت ہونا چاہئے۔

اصل یہ ہے کہ اگر کسی معاملے میں 99 فی صد شکر کی بات ہو اور صرف ایک فی صد منفی بات تو شیطان یہ کرتا ہے کہ وہ ایک فی صد منفی بات کو اتنا زیادہ بڑھاتا ہے کہ 99 فی صد مثبت بات آدمی کی نظر سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ وہ شکر کے سمندر میں رہتے ہوئے بھی ناشکری کے احساس میں جینے لگتا ہے۔ ایسے موقع پر آدمی کو چاہئے کہ وہ فوراً یہ کہے کہ: اللهم إني أعوذ بك من همزات الشياطين ۔ اس کے بعد ان شاء اللہ، شیطان بھاگ جائے گا۔ یہ صرف عقیدہ کی بات نہیں، بلکہ یہی میرا تجربہ ہے۔ میں نے کہا کہ ناشکری کی کوئی بات دماغ میں آئے تو آدمی کو چاہئے کہ وہ اس کو سرتا سر بے اصل سمجھے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر وہ اس کو اپنے دماغ میں جگہ نہ دے۔ وہ اس کو بداہۃً قابلِ رد (prima facie its stands rejected) سمجھتے ہوئے فی الفور اپنے دماغ سے نکال دے۔ دہلی ایئر پورٹ پر میں نے قدم قدم پر خدا کی نصرت اور رحمت کے ایسے مناظر دیکھے کہ میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے— خدایا، اگر میں دنیا کی تمام زبانیں جانتا اور تمام زبانوں کی ڈکشنریوں کے تمام الفاظ مجھ کو یاد ہوتے اور میں تیری حمد اور تیرا شکر ادا کرتا تو میں اس کا حق ادا نہیں کر سکتا تھا۔ خدایا، اگر دنیا کے تمام درخت میرے لیے قلم بنائے جاتے اور تمام سمندر میرے لیے سیاہی ہوتے اور میں تیرے احسانات کو لکھنے بیٹھتا تو یقیناً ایسا ہوتا کہ تمام قلم ختم ہو جاتے اور تمام سمندر خشک ہو جاتے، تب بھی تیری حمد کا بیان ختم نہ ہوتا۔ یہ الفاظ جب میری زبان پر آئے تو اُس وقت میں نے سوچا کہ قرآن (لقمان: 27) میں جو یہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues

Printed page