Vodafone Qatar Celebrates Diwali
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۱۶
سرسید کے شاہ نامہ میں سے صرف ’’منیرہ منم‘‘ کو یاد کر رکھا ہے۔
آج عرب ملکوں کے شہر مادی ترقی کے اعتبار سے یورپ کا نمونہ معلوم ہوتے ہیں، لیکن اب سے صرف چالیس سال پہلے ایسا نہ تھا۔ اُس وقت عرب کے لوگ معاشی اعتبار سے نہایت پس ماندہ سمجھے جاتے تھے۔ اُس وقت برصغیر ہند کے دولت مند لوگ عربوں کو مالی مدد بھیجا کرتے تھے۔ حیدر آباد دکن میں مدینہ کے نام پر ایک وقف قائم کیا گیا تھا جس کے وقف نامے میں لکھا ہوا تھا کہ اس کی آمدنی مدینہ کے غرباء کے لیے بھیجی جائے گی۔
مولا نا شبلی نعمانی (وفات: 1914) نے 1892ء میں مصر کا سفر کیا تھا۔ انھوں نے لکھا ہے کہ اسکندریہ میں سڑک کے کنارے عرب لوگ معمولی سامان بیچتے تھے اور اپنے سامان کو بیچنے کے لیے کہتے تھے: برأس سیدنا الحسین۔
اس سلسلے میں مجھے خود اپنا ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ میری نوجوانی کے زمانے میں عرب کے فقراء ’’مسافر‘‘ کے نام پر ہندوستان آیا کرتے تھے، تا کہ وہ یہاں سے اپنے لیے کچھ تعاون حاصل کرسکیں۔ اِسی قسم کے ایک عرب مسافر ایک بار اعظم گڑھ یوپی میں میرے گاؤں آئے تھے۔ یہ غالباً 1940 کا واقعہ ہے۔ میں نے اُن کو اپنے گھر ٹھہرایا۔ شام کا کھانا کھانے کے بعد وہ میرے گھر کے مردانہ حصے میں سو گئے۔ اگلے دن صبح کو جب میں اُن سے ملا تو اُنھوں نے کہا کہ: ما كان النوم معنا بالليل (رات کو میں سو نہ سکا)۔ اُن کا مطلب یہ تھا کہ مچھروں کی وجہ سے مجھ کو نیند نہیں آئی۔ صبح کے ناشتے کے بعد وہ پھر کہیں دوسری جگہ چلے گئے۔
اسی طرح کے ایک عرب مسافر کا واقعہ میرے چچا زاد بھائی مولانا اقبال احمد خان سہیل (وفات: 1955) نے بتایا تھا۔ جس زمانے میں وہ علی گڑھ میں زیرِ تعلیم تھے، وہاں ایک عرب مسافر آیا۔ اُن لوگوں نے عرب مسافر کو کچھ کھانے کی چیز پیش کی۔ اس کے بعد مذکورہ عرب مسافر نے کچھ کہا جو اُنھیں اس طرح سنائی دیا: جَب شیطان۔ سہیل صاحب کو اور ان کے ساتھیوں کو اس کا مطلب سمجھ میں نہ آیا۔ بار بار پوچھنے پر معلوم ہوا کہ عرب مسافر یہ کہہ رہا تھا: جئی بشیئ ثان، یعنی کوئی دوسری چیز
‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues