Vodafone Qatar Celebrates Diwali
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۱۵
رہناہی سرے سے ناممکن ہو جائے گا۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ یہاں قابلِ ذکر ہے۔ یہ واقعہ میں نے اپنی ڈائری میں 25 جولائی 2009 کو ان الفاظ میں نقل کیا تھا:
”میرے ایک ساتھی مولانا ابو صالح انیس لقمان ندوی ابوظبی (امارات) میں رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ابوظبی میں کئی ہزار پاکستانی مسلمان غیر قانونی طور پر مقیم تھے۔ حکومت نے اُن کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ انیس لقمان صاحب نے اس سلسلے میں حکومت سے استرحام (plea for mercy) کی بنیاد پر حکم کو واپس لینے کی کوشش کی۔ آخر کار، حکومت نے اپنے حکم کو واپس لے لیا۔ ابوظبی میں پاکستان کے سفیر اس واقعے پر بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے انیس لقمان صاحب سے کہا کہ آپ کو ہم اعزازی طور پر پاکستان کی شہریت (citizenship) دینا چاہتے ہیں۔ انیس لقمان صاحب نے کہا کہ میں اس کو دو شرطوں پر قبول کر سکتا ہوں— ہم انڈیا کے فادر آف دی نیشن مہاتما گاندھی پر تنقید کرتے ہیں اور وہاں ہماری کوئی پکڑ نہیں ہوتی۔ کیا آپ اس کی اجازت دیں گے کہ میں پاکستان میں وہاں کے فادر آف دی نیشن مسٹر محمد علی جناح پر تنقید کروں اور میری کوئی پکڑ نہ ہو۔ پاکستانی سفیر نے کہا کہ نہیں۔ انیس لقمان صاحب نے دوسری بات یہ کہی کہ انڈیا میں ایک مسلمان ”مسلم انڈیا“ کے نام سے میگزین نکالتا ہے۔ کیا آپ پاکستان میں ہندو کو اجازت دیں گے وہ پاکستان میں ”ہندو پاکستان“ کے نام سے میگزین نکالے۔ پاکستانی سفیر نے کہا کہ نہیں۔ انیس لقمان صاحب نے کہا کہ پھر مجھے ایسے ملک کی شہریت بھی قبول نہیں۔ “ ایک عمری عالم نے سوال کیا کہ آپ کا ایک دینی اور دعوتی مشن ہے، پھر آپ سیاسی موضوعات پر کیوں بولتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میرا اصل موضوع تحدیاتِ عصریہ ہے، یعنی جدید ذہن کے مطابق، علمی سطح پر اسلام کی تبیین۔ میری تمام تحریریں براہ راست یا بالواسطہ طور پر اسی موضوع سے تعلق رکھتی ہیں۔ میں نے کہا کہ اسی قسم کا اعتراض اس سے پہلے سرسید پر کیا گیا تھا۔ اُس وقت اس کا جواب دیتے ہوئے مولانا شبلی نعمانی نے لکھا تھا کہ جو لوگ سرسید کی بعض باتوں پر اعتراض کرتے ہیں، انھوں نے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues