Vodafone Qatar Celebrates Diwali
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۱۸
مطالعہ کافی ہوسکتا ہے، لیکن اسلام کی دعوت کو موثر اسلوب میں پیش کرنے کے لیے جدید افکار سے واقفیت لازمی طور پر ضروری ہے۔
ایک صاحب جو قطر کی ایک مسجد میں امام ہیں اور اپنی فیملی کے ساتھ یہاں رہتے ہیں، انھوں نے کھانے کے لیے اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ میں نے کہا کہ میں صرف اس شرط پر آؤں گا کہ آپ بالکل سادہ کھانے کھلائیں۔ پھر میں نے کہا کہ سادہ کھانے کی تعریف یہ ہے کہ آپ روزانہ جو کھانا کھاتے ہیں، وہی کھانا ہم کو کھلائیں۔ اس میں کسی اور آئٹم کا اضافہ نہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ مگر حدیث میں آیا ہے کہ: مَن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه ۔ اس حدیث کے مطابق، مہمان کا اکرام کرنا بھی مومن کی ایک صفت ہے۔ میں نے کہا کہ اکرام ضیف دل سے ہوتا ہے، نہ کہ پُر تکلف کھانا کھلانے سے، جس کا آج کل عام رواج ہے۔ اکرام ضیف کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے مہمان سے محبت کے ساتھ ملیں، اس کی سچی محبت کریں، اس کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کریں۔ ضیف کا اکرام دل سے ہوتا ہے، نہ کہ انواع واقسام کا کھانا کھلانے سے۔ آج کل مسلمانوں میں ایک بات بہت زیادہ کہی جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ ـــــ اسلاف کی پیروی کرو۔ یہ بات بظاہر درست معلوم ہوتی ہے، لیکن عملی اعتبار سے دیکھیے تو اس میں پوری امت کے لیے کوئی واضح رہنمائی پائی نہیں جاتی۔ پیروی کا لفظ ایک واحد نقطۂ اتحاد (point of unity) چاہتا ہے، لیکن ’’اسلاف کی پیروی‘‘ کے لفظ میں کوئی واحد نقطۂ اتحاد موجودنہیں۔
حدیث کی ایک پیشین گوئی موجودہ زمانے میں واقعہ بن چکی ہے، وہ یہ کہ امت مختلف گروہوں میں بٹ گئی ہے۔ مثلاً سلفی گروہ، حنفی گروہ، بریلوی گروہ، شیعہ گروہ، اسی طرح ندوی گروہ، دیوبندی گروہ، وغیرہ۔ ان میں سے ہرگروہ کے اپنے اپنے اکابر ہیں۔ ہرایک کے اکابر اس کے لیے اپنے اسلاف کا درجہ رکھتے ہیں۔ مثلاً اہل حدیث کے اکابر امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم ہیں، احناف کے اکابر امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف ہیں۔ اسی طرح دیوبندیوں کے اکابر مولانامحمد قاسم نانوتوی اورمولانا حسین احمد مدنی ہیں، اور ندویوں کے اکابر مولانا سید سلیمان ندوی اور مولاناسید ابوالحسن علی ندوی ہیں، وغیرہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues