Al-Risala · March 2010 · page 19

Vodafone Qatar Celebrates Diwali

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۱۹

ایسی حالت میں اگر یہ کہا جائے کہ ”اسلاف کی پیروی کرو‘‘ تو اس اصول کو جاننے کے باوجود اس کا مفہوم ایک نہیں ہوگا، بلکہ کئی ہو جائے گا، ہر ایک اپنے اکابر سلف کو الگ الگ اپنا مقتدا سمجھے گا۔ اس طرح امت بدستور مختلف گروہوں میں بٹی رہے گی، جیسا کہ وہ اس وقت بٹی ہوئی ہے۔ اس کے بجائے اگر لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ رسول اور اصحاب رسول کی پیروی کرو تو لوگوں کو واحد نقطۂ پیروی مل جائے گا، کیوں کہ اس معاملے میں امت کے مختلف گروہوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ ایک ہی رسول ہر ایک کے لیے رسول ہے اور ایک ہی جماعت صحابہ ہر ایک کے لیے جماعت صحابہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسا کہنے کی صورت میں ہر ایک کو مشترک طور پر ایک ہی نقطۂ پیروی مل جائے گا، اور وہ ہے رسول اور اصحاب رسول کی پیروی۔ یہی طریقہ قرآن اور سنت کے مطابق ہے، اور اس طریقے کے ذریعے امت کے اندر صحیح ذہن اور اتحاد پیدا ہوسکتا ہے۔ ایک صاحب نے حجر اسود کے بارے میں سوال کیا۔ اُن کا سوال ان کے الفاظ میں یہ تھا: In the last lecture (18 Oct. 2009) you said that Black Stone (Hajar al Aswad) is just a stone and Prophet Ibrahim took from one of the mountains, that it is just a starting point for Tawaf. Why did Prophet Muhammad kiss it and all Muslims want to kiss it, if this is just a stone taken from a mountain? میں نے اس سوال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حجر اسود کوئی پر اسرار پتھر نہیں۔ ایسی کوئی حدیث موجود نہیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظاً یہ کہا ہو کہ تم لوگ حجر اسود کو بوسہ دو۔ حجر اسود کی حیثیت صرف طواف کے لیے ایک نقطۂ آغاز (starting point) کی ہے۔ ایک حاجی اگر حجر اسود کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے اپنا طواف شروع کرے تو یہ بھی عین درست ہوگا، اس سے اُس کے حج میں کوئی کمی واقع نہ ہوگی۔ خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق کے بارے میں روایات میں آیا ہے کہ: أنه جاء إلى الحجر الأسود فقبله فقال: إنى أعلم أنك حجرٌ، لا تضر ولا تنفع، ولولا أني رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يُقبّلك، ما قبلتك (صحیح البخاری، کتاب

‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues

Printed page