Vodafone Qatar Celebrates Diwali
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۲۸
یہ بلاشبہ ایک جاہلیت ہے۔ نہ صرف مسلمان، بلکہ تمام انسانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان کی تخلیق کے بعد اس کو جنت میں رکھا گیا، پھر اس کو وہاں سے نکال دیا گیا۔ اب مسلمان سمیت تمام انسانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کو جنت میں دوبارہ واپسی ملے، مگر شیطان نے ہر ایک کو بھٹکا کر ان کو اصل مسئلے سے غافل بنا رکھا ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ اپنے کام کو دعوت الی اللہ کا کام بتاتے ہیں، لیکن مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ کلمہ نہیں پڑھاتے۔ آخر یہ کیسی دعوت ہے جس میں کلمۂ شہادت کی ادائیگی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک داعی تھے۔ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ لوگوں کو کلمہ پڑھا کر اسلام میں داخل کرتے تھے، پھر یہ آپ کی کون سی دعوت ہے جس میں کلمہ پڑھانا نہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کو یہ غلط نہی سلیکٹیو رپورٹنگ (selective reporting) کی بنا پر ہے، یعنی کچھ اجزا کو بتانا اور کچھ اجزا کو نہ بتانا۔ میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مشن میں کلمہ پڑھانے سے دعوت کا آغاز نہیں کرتے تھے، بلکہ شعوری بیداری سے آغاز کرتے تھے جس کو معرفت کہا جاتا ہے۔ رسول اللہ کی دعوت تمام تر قرآن پر مبنی تھی۔ آپ افراد کے سامنے بھی اور مجمع میں بھی یہی کرتے تھے کہ آپ لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے تھے (عرض عليهم الإسلام، وقرأ عليهم القرآن)۔ آپ کا اصل دعوتی کام یہی تھا۔ اس کے بعد جن لوگوں کا ذہن بدل جاتا اور وہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی خواہش ظاہر کرتے تو آپ کلمہ شہادت کی ادائیگی کے بعد ان کو دائرہ اسلام میں داخل کر لینے۔ یہی وجہ ہے کہ سارے قرآن میں دعوت کی باتیں تو ہیں، لیکن قرآن میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ لوگوں سے کلمہ شہادت پڑھوا کر ان کو دائرہ اسلام میں داخل کرو۔
قطر کے زمانہ قیام میں جو دعوتی کام ہوئے، اُن میں سے ایک یہ تھا کہ پروفیسر ابراہیم صالح النعیمی کو ہمارے ساتھیوں نے تذکیر القرآن کے عربی ایڈیشن (التذكير القويم في تفسير القرآن الحكيم) کا ایک سیٹ بطور ہدیہ پیش کیا۔ اس کو انھوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ پروفیسر صالح النعیمی مرکز الدوحة الدولي لحوار الأديان کے ڈائریکٹر ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues