Al-Risala · March 2010 · page 27

Vodafone Qatar Celebrates Diwali

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۲۷

اس انگریزی فلم میں قیامت کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ اس فلم میں بتایا گیا ہے کہ قیامت 21 دسمبر 2012 کو آئے گی ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ مشہور سائنس داں آئن سٹائن (وفات: 1955) نے بھی کہا تھا کہ 2012 تک قطبین (South Pole, North Pole) کی برف پگھلنے کی وجہ سے زمین پر پول شفٹ (pole shift) کا واقعہ پیش آئے گا۔ اس فلم میں ایک سائنس داں بول کر کہتا ہے کہ قیامت قریب آ رہی ہے، کیوں کہ انسان خدا کے قانون پر نہیں چلا:

Doomsday is coming because man does not follow the path of God. قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قیامت اچانک (بغتهً) آئے گی (الأعراف : 187)۔ اس لیے 21 دسمبر 2012 کی محدد پیشین گوئی درست نہیں ہو سکتی، البتہ یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ قیامت بہت زیادہ قریب آچکی ہے، ممکن ہے کہ وہ اکیسویں صدی عیسوی کے ربع اوّل ہی میں آجائے۔ ایک مجلس میں مسلمانوں کی موجودہ عالمی حالت پر گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان، عرب اور غیر عرب دونوں، ایک ذہنی واہمہ (obsession) میں مبتلا ہیں اور وہ ہے، عظمت رفتہ کی واپسی۔ میں نے کہا کہ یہ ایک جاہلی مزاج ہے۔ وسیع تر پہلو سے دیکھا جائے تو انسان کا کیس جنت رفتہ کی واپسی کا کیس ہے، نہ کہ دنیوی معنوں میں عظمتِ رفتہ کی واپسی کا کیس۔ ایک عرب خاتون لیمانیل نے اسپین کا سفر کیا۔ وہاں مسلم عہد کی قدیم عمارتوں میں اُن کو عرب کی عظمتِ رفتہ نظر آئی۔ اس کو دیکھ کر وہ روپڑیں۔ انھوں نے کہا: إلی متی سیستمر هذا الليل العربي (عرب کی یہ تاریک رات آخر کب تک باقی رہے گی)۔

یہی موجودہ زمانے کے تمام مسلمانوں کا حال ہے۔ ہر ایک قدیم سیاسی عظمت کے تصور میں گم ہے ۔ اسپین کی عرب سلطنت 1492 میں ختم ہوئی، انڈیا کی مغل سلطنت 1857 میں ختم ہوئی، ترکی کی عثمانی خلافت 1929 میں ہوئی ۔ یہ مسلم ایمپائر کے دور کی باتیں ہیں ۔ ساری دنیا کے مسلمان ان واقعات کو پڑھتے ہیں اور اس کی واپسی کا خواب دیکھتے رہتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues

Printed page