Vodafone Qatar Celebrates Diwali
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۳۰
قرأ مجموعة كبيرة من الصفحات، فإنه لا يكاد ينتهى من قراءته إلا ويكون قد ظفر بنصيب من (الموعظة القرآنية) على أية حال. وقد توخى الايجاز إلى الحد الممكن، غير عارض للتفاصيل المتصلة بالجانب اللغوى، أو الجانب الفقهى أو الجانب الكلامى، أو ما إلى ذلك من الجوانب والوجوه الأخرى للمدلول القرآنّي، وإنما الشئ الذي جعله نصب عينيه، هو أن يتسم تفسير القرآن بطابع من البساطة التى يتميز بها القرآن نفسه، فإن القرآن، من جهة يعكس جلال الله وعظمته، ومن جهة أخرى، هو مرآة تنعكس عليه عبودية الإنسان بجميع نواحيها، وهذه هي النقاط الجوهرية التي يتمحور حولها هذا التفسير، ويحاول تجليتها بأسلوب موجز وبسيط، بعيدا عن التعقيدات الفنية. تذکیر القرآن کا یہ عربی ترجمہ مولانا ابو صالح انیس لقمان ندوی نے کیا ہے۔ وہ مالے گاؤں (مہاراشٹر) میں 1965 میں پیدا ہوئے۔ اب وہ ابوظبی (عرب امارات) میں رہتے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کو عربی زبان سے عشق ہے۔ عربی کے علاوہ، وہ انگریزی زبان میں بھی لکھنے پڑھنے اور بولنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔
موجودہ زمانے میں عام طور پر عربوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ لکھنے میں تو فصیح عربی لکھتے ہیں، لیکن بولنے میں اکثر وہ غیر فصیح زبان بولتے ہیں۔ مولانا انیس لقمان ندوی کو عربوں کا یہ مزاج پسند نہیں۔ انھوں نے بتایا کہ 22 جون 1998 کو ابوظبی میں ڈاکٹر عزالدین ابراہیم سے ان کی ملاقات ہوئی۔ اس دوران اُن سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ ابتدائی میں میں نے اُن سے درخواست کی کہ وہ مجھ سے صرف فصیح عربی میں بات کریں، کیوں کہ میں فصیح عربی کے معاملے میں اُس سے زیادہ غیور ہوں جتنا غیور کوئی مرد اپنی بیوی کے معاملے میں ہوتا ہے۔ اگر آپ مجھے فصیحی میں گالی دیں تو یہ بات مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ آپ عامی زبان میں میری تعریف کریں (كلّمنى من فضلك بالعربية الفُصحى، فإنّي والله أغار على اللغة العربية الفصحى أكثر مما يغار الرجل الرّجل
‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues