Vodafone Qatar Celebrates Diwali
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۰، صفحہ ۳۱
علی زوجتہ۔ ولو شتمتنی بالفصحى، فإنه أحبّ إلى من أن تمدحنى بالعامية) ۔ اِس بات کوسن کر ڈاکٹر عز الدین ابراہیم بہت محظوظ ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بات آپ نے اتنے خوب صورت پیرائے میں کہی ہے کہ وہ اس قابل ہے کہ ضرب المثل بن جائے (إنّ كلامك هذا مصوغ صياغة رائعة لدرجة أنه يكاد أن يكون مضرب المثل)۔
ریاض، کویت، بیروت اور قاہرہ سے راقم الحروف کی مختلف عربی کتابوں کے ترجمے شائع ہو چکے ہیں جن کی مجموعی تعداد تقریباً 40 ہوتی ہے۔ تذکیر القرآن کا عربی ترجمہ المنصورہ (مصر) سے چھپا ہے۔ اس عربی ترجمہ کی تحریک ابتداءً ایک عرب عالم محمد سلیمان القائد نے کی تھی۔ اس کے بعد مولا نا انیس لقمان ندوی نے اس کا عربی ترجمہ کیا اور پھر دو عرب شخصیتوں، استاد صالح شوکات اور دكتور عبد الحلیم عویس، کی کوششوں سے وہ چھپ کر شائع ہوا۔
شیخ سلیمان القائد کا خیال تھا کہ عالم عرب میں راقم الحروف کی کتاب ”الإسلام يتحدّى“ کی اشاعت سے اسلام اور سائنس کے متعلق میرے افکار پھیلے، لیکن ابھی تک وہاں میرے دعوتی افکار عام نہ ہو سکے۔ تذکیر القرآن کے عربی ایڈیشن کی اشاعت ان شاء اللہ دعوتی افکار کی اشاعت میں معاون ہوگی۔ الرسالہ کے دعوتی مشن سے شیخ سلیمان القائد کی گہری وابستگی کا اندازہ ان کے حسب ذیل اقتباس سے کیا جا سکتا ہے۔ یہ اقتباس اسلامی مرکز (نئی دہلی) میں 31 اگست 1984 میں کی گئی ان کی ایک تقریر سے ماخوذ ہے: ”ولعلك تسئل بعد هذا، لماذا أحببت وحید الدین۔ الحقيقة أن اكتشاف الشيخ وحيد الدين أعظم اكتشاف في حياتي۔ فالفضل يرجع إلى الله أولاً، ثمّ إلى وحید الدین خان في اكتشاف حقيقة الدعوة إلى الله۔ فهو أضاء لي الطريق الذي جعل به حياتي ذات معنى۔ وأكثر من هذا، فإنّي أحسب نفسي بكل تواضع أنني مجرّد تلميذ صغير جداً في مدرسة هذا العالم الرباني۔ والمسلمون حالياً لا يعرفونه معرفة كاملة، ولكن الأيام ستكشفه لهم۔ لقد زرت العالم الإسلامي كله، من إندونيسيا
‹ Previous page Next page › Contents of March 2010 All issues