Al-Risala · April 2010 · page 3

عجز اور اختیار

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۳

عجز اور اختیار

قرآن کی سورہ نمبر 35 کی ایک آیت یہ ہے: یا أیّہا الناس أنتم الفقراء إلى الله، والله هو الغنی الحمید (فاطر: (15) یعنی اے لوگو، تم سب اللہ کے محتاج ہو۔ اور اللہ بہت بے نیاز اور تعریف والا ہے۔ یہی بات ایک حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: یا عبادی، کلّکم ضالّ، إلا مَن هديته، فاستهدونی أہدِکم۔ یا عبادی، کلّکم جائع إلا من أطعمته، فاستطعّمونی أطعمکم۔ یاعبادی، کلّکم عار إلا من کسوته، فاستکسونی أكسُكم (صحیح مسلم، کتاب البرّ، باب تحريم الظلم) یعنی اے میرے بندو، تم سب کے سب بھٹکے ہوئے ہو، سوا اس کے جس کو میں راہ دکھاؤں۔ تم مجھ سے رہنمائی مانگو، میں تم کو رہنمائی دوں گا۔ اے میرے بندو، تم سب کے سب بھوکے ہو، سوا اس کے جس کو میں کھلاؤں۔ تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تم کو کھانا دوں گا۔ اے میرے بندو، تم سب کے سب عاری ہو، سوا اس کے جس کو میں پہناؤں۔ تم مجھ سے طلب کرو، میں تم کو پہناؤں گا۔ اللہ نے انسان کو ہر اعتبار سے ایک کامل وجود دیا، لیکن انسان کو کسی بھی اعتبار سے ذاتی اختیار حاصل نہیں۔ انسان مکمل طور پر ایک عاجز مخلوق ہے۔ اس عجز کی تلافی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔ موجودہ دنیا میں اس عجز کی تلافی بقدر ضرورت کی گئی ہے، جس کا اشارہ قرآن کی اس آیت میں موجود ہے: وآتاکم من كلّ ما سألتموه (ابر اہیم: 34)۔ آخرت میں اہل جنت کے لیے اس عجز کی تلافی بقدر خواہش کی جائے گی، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: ولكم فيها ما تشتهی أنفسكم (حم السجدة: (31)۔

اسی حقیقت کی دریافت سب سے بڑی معرفت ہے۔ قادر مطلق خدا کے مقابلے میں، اپنے عجز تام کو شعوری طور پر دریافت کرنا، یہی معرفت کا آغاز ہے۔ اس دریافت کے بغیر کسی انسان کے اوپر معرفت کا دروازہ نہیں کھلتا۔ معرفت سے بہرہ مند لوگوں کے لیے جنت ہے، اور معرفت سے بے بہرہ لوگوں کے لیے جہنم۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues

Printed page