Al-Risala · April 2010 · page 3

ایک انسانی کمزوری

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۳

ایک انسانی کمزوری

عورت اور مرد دونوں میں یہ کمزوری بہت عام ہے کہ وہ مثبت تجربے کے وقت اعتراف کا کلمہ نہیں بولتے، لیکن اگر انھیں کوئی منفی تجربہ ہو تو وہ فوراً بے اعترافی کی بولی بولنے لگتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا جواب قرآن کی سورہ نمبر 89 سے معلوم ہوتا ہے۔ انسان کی اس کمزوری کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے: فأما الإنسان إذا ما ابتلاه ربه فأكرمه ونعمه فيقول ربي أکرمن۔ ۔ وأما إذا ما ابتلاه فقدر عليه رزقه فيقول ربي أهانن (الفجر : 16-15) یعنی انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا رب اس کو آزماتا ہے اور اُس کو عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو عزت دی۔ اور جب وہ انسان کو آزماتا ہے اور اُس کا رزق اس پر تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو ذلیل کر دیا۔

اصل یہ ہے کہ ہر عورت اور مرد، شعوری یا غیر شعوری طور پر، اپنے لیے استحقاق کا ایک درجہ مان لیتے ہیں۔ یہ درجہ ہمیشہ اپنے بارے میں برتر اندازہ (overestimation) پر قائم ہوتا ہے۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جب اُن کو دنیا کی نعمتوں میں سے کوئی نعمت ملتی ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا اس لیے ہوا کہ میں اُس کا مستحق تھا، میرے ساتھ ایسا ہونا ہی چاہیے تھا۔

اس کے برعکس، جب وہ ایک نعمت سے محروم ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے مزاج کی بنا پر یہ سمجھتے ہیں کہ ایک چیز جس کا میں مستحق تھا، وہ مجھ کو نہیں ملی۔ اس طرح، دونوں حالتوں میں ان کا رویہ غلط ہو جاتا ہے۔ پانے کے موقع پر وہ بے اعترافی کا شکار ہو جاتے ہیں اور نہ پانے کے موقع پر وہ شکایت کرنے لگتے ہیں۔

صحیح یہ ہے کہ آدمی کو جب کوئی چیز ملے تو اُس کے اندر شکر کی نفسیات پیدا ہواور اس کا اظہار وہ اعتراف کے کلمات کے ساتھ کرے، اور جب اس کو محرومی کا تجربہ ہو تو وہ صبر کرے اور مزید اضافے کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے۔ یہی اس معاملے میں ایک خدا پرست انسان کا طریقہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues

Printed page