Al-Risala · April 2010 · page 5

آخرت کا ائیرپورٹ

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۵

آخرت کا ائیرپورٹ

ایک بار میں ہوائی جہاز سے سفر کرتے ہوئے ایک ائیرپورٹ پر اترا۔ میں اور دوسرے اکثر مسافر ضروری مراحل سے گزرتے ہوئے باہر آگئے، لیکن چند مسافر ایسے تھے جن کو ائیرپورٹ پر روک لیا گیا۔ اُن سے کہا گیا کہ آپ لوگ یہاں ٹھہریے، آپ لوگوں کی خصوصی چیکنگ ہوگی۔ ان افراد کے بارے میں کوئی خفیہ اطلاع ملی تھی، جس کی وجہ سے ائیرپورٹ کے عملہ نے اُن کے ساتھ ایسا کیا۔ ائیرپورٹ پر یہ منظر دیکھ کر مجھے قرآن کی ایک آیت یاد آئی۔ وہ آیت یہ تھی: وقفوهم، إنهم مسئولون (الصّافات: 24) یعنی ان لوگوں کو ٹھہراؤ، ان سے کچھ پوچھنا ہے۔

غور کیجیے تو زندگی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ انسان جس زمین پر آباد ہے، وہ اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل گھوم رہی ہے۔ گویا کہ ہم ایک ایسے ہوائی جہاز پر سوار ہیں جو تیز رفتاری کے ساتھ ایک ائیرپورٹ کی طرف چلا جا رہا ہے۔ یہ ائیرپورٹ آخرت کا ائیرپورٹ ہے۔ ایک وقت آئے گا، جب کہ تمام انسان آخرت کے ائیرپورٹ پر اتاردئے جائیں گے۔ یہاں یہ واقعہ ہوگا کہ کچھ لوگوں سے کہا جائے گا کہ تم یہاں ٹھہرو، تم سے ابھی پوچھ گچھ ہونے والی ہے۔ دوسری طرف، کچھ ایسے خوش نصیب لوگ ہوں گے جن کا استقبال فرشتے یہ کہہ کر کریں گے: سلام علیکم، طبتُم، فادخلُوها خالدين (الزمر: 73) یعنی تم پر سلامتی ہو، تم شاد رہو، پس ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ یہ صورت حال سارے انسانوں کے ساتھ پیش آنے والی ہے۔ دنیا کے سفروں کا وقت مقرر رہتا ہے، لیکن آخرت کے اس سفر کا وقت مقرر نہیں۔ کسی بھی لمحہ انسان کے اوپر وہ وقت آ سکتا ہے، جب کہ زندگی کا جہاز آخرت کے ائیرپورٹ پر اتر جائے اور پھر وہاں کچھ لوگ پوچھ گچھ کے لیے روک لئے جائیں اور کچھ لوگوں کو فرشتے خوش آمدید کہتے ہوئے جنت میں داخل کردیں۔ بلاشبہ یہی وہ سب سے بڑی بات ہے جس پر ہر عورت اور مرد کو سوچنا چاہئے، اور جس کے مطابق اپنی زندگی گزارنا چاہئے۔ آنے والا وقت اعلان کے بغیر کسی بھی وقت آجائے گا اور پھر کسی کے لیے یہ موقع نہ ہوگا کہ وہ لوٹ کر دوبارہ پیچھے کی طرف جاسکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues

Printed page